جواُن کے کسب وکمائی سے باہر ہو ، کوئی مزدوری نہیں کی جاتی ، مفت کا کھانا کھانے کے عادی ہیں اور اس کے لئے بھیک مانگتے پھرتے ہیں انہیں سوال کرنا حرام اور جو کچھ اُنہیں اِس سے ملے وہ ان کے حق میں خبیث ، انہیں بھیک دینا منع ہے کہ گناہ پر مدد ہے ، لوگ اگر نہ دیں تو مجبور ہوں ، کچھ محنت مزدوری کریں مگر ان کو دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی جبکہ اور کوئی شرعی رُکاوٹ نہ ہو ۔ تیسرے وہ عاجز ناتواں ( بے بس وکمزور) کہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پر قدرت یا جتنے کی حاجت ہے اتنا کمانے پر قادر نہیں ، انہیں بقدرِ حاجت سوال حلال اور اس سے جو کچھ ملے ان کے لیے طیّب اور یہ عمدہ مَصَارِفِ زکوٰۃ سے ہیں اور انہیں دینا باعِثِ اجر ِعظیم ، یہی ہیں وہ جنہیں جِھڑکنا حرام ہے ۔ (1)
سوال کاروبار میں بڑوں سے مشورہ کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟
جواب دنیاوی کاروبار میں بزرگوں سے مشورہ کرنا سنتِ صحابہ ہے ، اس سے تجارت میں بزرگوں کا فیض بھی شامل ہوجاتا ہے ۔ (2)
سوال کیاخرید وفروخت ہوجانے کے بعد اور قیمت کی ادائیگی سے پہلے کرنسی ریٹ زیادہ یاکم ہوجائے تو خریدنے یا بیچنے والا اس معاہدۂ تجارت کوختم کرسکتا ہے ؟
جواب نہیں کرسکتا ۔ اگر وہ کرنسی بند نہیں ہوئی صرف اس کی قیمت ہی کم ہوئی ہے تو یہ خریدو فروخت بدستور برقرار رہے گی اور بیچنے والا اسے منسوخ نہیں کر سکتا ۔ یونہی اگر کرنسی کی قیمت زیادہ ہوگئی ہو تو خریدار کو وہ تجارتی معاہدہ ختم
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ، ۱۰ / ۲۵۳ماخوذ ا ۔
2 - مرآۃ المناجیح ، ۴ / ۲۴۰ ۔