Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
153 - 360
	 نکلیں یا پہلی تہ اعلیٰ درجے کی نکلنے کے بعد نیچے سڑا ہوا مال نکلے وہاں کا جو انجام ہوتا ہے وہ سب سمجھ سکتے ہیں ۔  (1) 
سوال	 قسمیں کھاکر چیز فروخت کرنے کا کیا نقصان ہے ؟ 
جواب	مُعلّمِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  قسم  سامان بِکوادیتی ہے اور برکت مٹادیتی ہے ۔  (2) حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کے تحت فرماتے ہیں :  ممکن ہے کہ یہاں قسم سے مرادجھوٹی قسم ہو (  اور) برکت  (  مٹنے ) سے مراد آئندہ کاروبار بند ہو جانا ہو یا کیے ہوئے بیوپار میں گھاٹا پڑ جانا یعنی اگر تم نے کسی کو جھوٹی قسم کھا کر دھوکے سے  خراب مال دے دیا  وہ ایک بار تو دھوکہ کھا جائے گا مگر دوبارہ نہ آئے گا نہ کسی کو آنے دے گا یا جو رقم تم نے اس سے حاصل کرلی اس میں برکت نہ ہوگی کہ حرام میں بے برکتی ہے ۔  (3) 
سوال	بھیک مانگنا اور بھکاریوں کو دینا کیسا ہے ؟ 
جواب	اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں  :   گدائی (  بھیک مانگنا) تین قسم ہے :  ایک غنی مالدار جیسے اکثر جوگی اور سادھو بچّے ، انہیں سوال کرنا حرام اور انہیں دینا حرام اور اُن کودینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوسکتی ۔  دوسرے وہ کہ واقع میں فقیر ہیں ، قدرِ نصاب کے مالک نہیں مگر قوی وتندرست ، کمانے پر قادر ہیں اور سوال کسی ایسی ضرورت کے لئے نہیں 



________________________________
1 -     تفسیر صراط الجنان ، پ۱۵ ، بنی اسرائیل ، تحت الآیۃ : ۳۵ ،  ۵ / ۴۶۰ ۔ 
2 -     بخاری ، کتاب البیوع ، باب یمحق اللہ الربا ۔ ۔ ۔  الخ ، ۲ /  ۱۵ ، حدیث : ۲۰۸۷ ۔ 
3 -      مرآۃ المناجیح ، ۴ /  ۲۴۴ ۔