سوال عیب ظاہر کئے بغیرشے کو فروخت کردینے پر کیا وعید آئی ہے ؟
جواب ( 1) حضورنبیِ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحِیْمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جس نے عیب بیان کئے بغیرعیب دار چیز فروخت کی وہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے ۔ (1) ( 2) اورایک حدیثِ پاک میں ہے کہ حضور ِاقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غَلَّہ کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو اپنا ہاتھ مبارک اس میں ڈال دیا ، آپ کی انگلیوں نے اس میں تری پائی تو ارشاد فرمایا : اے غلہ والے ! یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس پر بارش پڑ گئی تھی ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تونے گیلا غلہ اوپر کیوں نہ کردیا تاکہ لوگ اُسے دیکھ لیتے ۔ جس نے دھوکا دیاوہ ہم میں سے نہیں ۔ (2)
سوال بیچتے وقت وزن پورا کرنے کا شرعی حکم اور صحیح ناپ تول کے فوائد بتائیے ؟
جواب دیتے وقت ناپ تول پورا کرنا فرض ہے بلکہ کچھ نیچا تول دینا یعنی بڑھا کر دینا مستحب ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے خود اس کی فضیلت بیان فرمائی کہ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا ہے ، آخرت میں تو یقیناً اچھا ہی انجام ہے ، دنیا میں بھی اس کا انجام اچھا ہوتا ہے کہ لوگوں میں نیک نامی ہوتی ہے جس سے تجارت چمکتی ہے ۔ آج دنیا بھر میں لوگ ان ممالک سے خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں جہاں سے صحیح مال صحیح وزن سے ملتا ہے اور جہاں سیب کی پیٹیوں کے نیچے آلو پیاز
________________________________
1 - ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب من باع عیبا فلیبینہ ، ۳ / ۵۹ ، حدیث : ۲۲۴۷ ۔
2 - مسلم ، کتاب الایمان ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا ، ص۶۴ ، حدیث : ۲۸۴ ۔