سوال آخرت کا بازارکسے کہتے ہیں ؟
جواب حضرت سَیِّدُنا عطا بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے ایک شخص کو مسجد میں کچھ بیچتے دیکھا تو اُسے بُلا کر فرمایا : یہ آخرت کا بازار ہے ، تو اگر کچھ بیچنا چاہتا ہے تو دنیا کے بازار میں چلا جا ۔ (1)
سوال زمین پر سب سے پہلے بنائی جانے والی مساجد کے نام بتائیے ؟
جواب حضور نبی غیب دان ، سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : زمین پر سب سے پہلے مسجدِحرام بنائی گئی ، پھر مسجدِ اَقصیٰ اور ان دونوں کے درميان 40سال کاعرصہ تھا (2) ۔ (3)
سوال قیامت کے دن کامِل نور کی خوشخبری کا مُژدہ کن افراد کو سنایا گیاہے ؟
جواب حضرت سَیِّدُنابُریدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور تاجدارِ ختمِ نبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : اندھیریوں میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کوقیامت کے دن کامِل نور کی بشارت ہے ۔ (4)
________________________________
1 - الزھد لامام احمد ، زھد محمد بن سیرین ، ص۳۲۰ ، رقم : ۱۸۴۶ ۔
2 - خیال رہے کہ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے خانہ کعبہ کی اورحضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے بیت المقدس کی بنیاد نہ رکھی بلکہ پہلی بنیادوں پرعمارتیں بنائیں ۔ ان دوپیغمبروں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ فاصلہ ہے ۔ اس حدیث میں یا تو ان دونوں مسجدوں کی بنیادوں کا ذکر ہے کہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے توبہ قبول ہوتے ہی کعبۃ اﷲ کی بنیاد ڈالی ، پھرچالیس سال کے بعد جب آپ کی اولاد بہت ہوگئی اور پھیل گئی تو ان میں سے کسی نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی ۔ بعض روایات میں ہے کہ خود آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے ہی کعبہ کے چالیس سال بعد بیت المقدس کی بنیاد رکھی یا کوئی خاص تعمیر مراد ہے ، جیساکہ بعض روایات میں ہے کہ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے تعمیر کعبہ کے چالیس سال بعد یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے بیت المقدس کی تعمیر کی ۔ ( مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۴۶۴)
3 - بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب۱۱ ، ۲ / ۴۲۷ ، حدیث : ۳۳۶۶ ۔
4 - ابو داود ، کتاب الصلاة ، باب ماجاء فی المشی الی الصلاة فی الظلام ، ۱ / ۲۳۲ ، حدیث : ۵۶۱ ۔