جواب اب مالک کو اختیار ہے چاہے تو اس صدقہ کو جائز کردے یعنی مسکین سے واپس نہ لے اس صورت میں وہ ثواب پائے گا اور اگر وہ اس صدقہ کو جائز نہیں کرنا چاہتا تو اپنی چیز واپس لے لے ۔ پھر اگر وہ چیز خرچ ہوچکی یا ہلاک ہوگئی تو اب مسکین یا لقطہ اٹھانے والے میں سے جس سے چاہے تاوان لے اور جس سے بھی تاوان کا مطالبہ کیا جائے وہ دوسرے سے رجوع نہیں کرسکتا ۔ (1)
سوال اگر بچہ باہر سے کوئی چیز اُٹھا کر لے آئے تو کیا حکم ہے ؟
جواب بچے کو کوئی چیز پڑی ہوئی ملی اور وہ اُٹھا لایا تو اُس کا سرپرست تشہیر کرے ، اگر مالک کا پتہ نہ چلے اور وہ بچہ خود فقیر ہے تو سرپرست اس بچے پر صدقہ کرسکتا ہے اور بعد میں مالک آیا اور صدقہ جائزنہ کیا تو سرپرست کو تاوان دینا ہوگا ۔ (2)
سوال اگر لقطہ اُٹھانے والا تشہیر نہیں کرسکتا مثلاً وہ بوڑھا یا مریض ہے تو کیا کرے ؟
جواب اگر ایسا ہے تو وہ کسی کو اپنا نائب بنادے جو اعلان وتشہیر کرے لیکن نائب کو دینے کے بعد اس سے واپس نہیں لے سکتا اور نائب کے پاس سے وہ چیز ضائع ہوگئی تو اُس سے تاوان بھی نہیں لے سکتا ۔ (3)
سوال پھل اور کھانے کی اشیاء کی کب تک تشہیر کی جائے ؟
جواب جو چیزیں خراب ہوجانے والی ہیں جیسے پھل اورکھانا ان کا اعلان صرف اتنے وقت تک کرنا لازم ہے کہ خراب نہ ہوں اور خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو
________________________________
1 - فتاوی قاضی خان ، کتاب اللقطة ، ۲ / ۳۵۶ ، ملتقطاً ۔
2 - البحر الرائق ، کتاب اللقطة ، ۵ / ۲۵۵-۲۵۶ ، ملخصاً ۔
3 - البحر الرائق ومنحة الخالق ، کتاب اللقطة ، ۵ / ۲۵۶ ، ملتقطاً ۔