کہلایا کہ کہو : خدا کی قسم ۔ اس نے کہا : خدا کی قسم ۔ اُس نے کہا کہو : فلاں کام کروں گا ۔ اس نے کہاتو یہ قسم نہ ہوئی ۔ (1)
سوال کس طرح کی قسم کو پورا کرنا ضروری ہے ؟
جواب بعض قسمیں ایسی ہیں کہ اُن کا پورا کرنا ضروری ہے مثلاً کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کا بغیر قسم کرنا ضروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی تو اس صورت میں قسم سچی کرناضروری ہے ۔ مثلاً خدا کی قسم ! ظہر پڑھوں گا یا چوری یا بدکاری نہ کروں گا ۔ (2)
سوال وہ کونسی قسم ہے جس کا توڑنا ضروری ہے ؟
جواب گناہ کرنے یا فرائض وو اجبات نہ اداکرنے کی قسم کھائی مثلاً قسم کھائی کہ نماز نہ پڑھوں گا ۔ یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام نہ کروں گاتو اس طرح کی قسم توڑنا شرعاً ضروری ہے مگر اس صورت میں بھی کفارہ لازم ہوگا ۔ (3)
سوال ”یمینِ فَور“کی تعریف اور اس کا حکم بیان کیجئے ؟
جواب اگر کسی خاص وجہ سے یا کسی بات کے جواب میں قسم کھائی جس سے اُس کا م کا فوراً کرنایا نہ کرنا سمجھا جاتاہے اُس کو یمینِ فَور کہتے ہیں ۔ ایسی قسم میں اگر فوراً وہ بات ہوگئی تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر کچھ دیر کے بعد ہو تو اس کا کچھ اثر نہیں مثلاً کسی نے اس کو ناشتہ کے لیے کہا کہ میرے ساتھ ناشتہ کرلو ۔ اُس نے کہا : خدا
________________________________
1 - فتاوی ھندیة ، کتاب الایمان ، الباب الاول ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۵۱ ، ملتقطاً ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ / ۳۰۰-٣٠١ ، ماخوذاً ۔
2 - المبسوط ، کتاب الایمان ، الجزء : ۸ ، ۴ / ۱۳۳ ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ / ۲۹۹ ، ملتقطاً ۔
3 - المبسوط ، کتاب الایمان ، الجزء : ۸ ، ۴ / ۱۳۳ ، بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ / ۲۹۹ ، ملتقطاً ۔