کی قسم ! ناشتہ نہیں کروں گا ۔ اور اُس کے ساتھ ناشتہ نہ کیا توقسم نہیں ٹوٹی اگرچہ گھر جاکر اُسی روز ناشتہ کیا ہو ۔ (1)
سوال ”یمینِ مُوَقَّت“کونسی قسم کو کہتے ہیں اور اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب جس کے لیے کوئی وقت ، ایک دن دودن یا کم و بیش مقرر کردیا اس میں اگر وقتِ مُعَیَّن کے اندر قسم کے خلاف کیا تو ( قسم) ٹوٹ گئی ورنہ نہیں مثلاً قسم کھائی کہ اس گھڑے میں جو پانی ہے اسے آج پیوں گااور آج نہ پیا تو قسم ٹوٹ گئی اور کفارہ دینا ہوگا اور پی لیا تو قسم پوری ہو گئی ۔ (2)
سوال ایسا کہنا کیسا کہ”اگر میں ایسا کروں تومجھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہو ۔ ؟ ‘‘
جواب یہ ( یعنی درج ذیل) الفاظ قسم نہیں اگرچہ ان کے بولنے سے گنہگار ہوگا جبکہ اپنی بات میں جھوٹا ہے : اگر ایسا کروں تومجھ پر اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ) کا غضب ہو ، اُس کی لعنت ہو ، اُس کا عذاب ہو ۔ خدا کا قہرٹوٹے ، مجھ پر آسمان پھٹ پڑے ، مجھے زمین نگل جائے ۔ مجھ پر خدا کی مارہو ، خدا کی پھٹکارہو ، رسول اﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی شفاعت نہ ملے ، مجھے خدا کا دیدار نہ نصیب ہو ، مرتے وقت کلمہ نہ نصیب ہو ۔ (3)
سوال اگریہ کہا کہ” خدا کی قسم کہ اس سے بڑھ کر کوئی قسم نہیں ! میں یہ کام نہیں کروں گا ۔ “کیااس صورت میں قسم ہوجائے گی ؟
________________________________
1 - بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ / ۲۹۹ ، ۳۰۰ ، ملتقطاً ۔
2 - بہارشریعت ، حصہ۹ ، ۲ / ۳۰۰ ۔
3 - بہار شریعت ، حصہ۹ ، ۲ / ۳۰۱-٣٠٢ ۔