Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
134 - 360
		 طاقت آنے کی امید ہو تو اب انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ، لہٰذا ہر روزے کے بدلے میں ”فدیہ“ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو پیٹ بھر کھانا کھلانا اُس پر واجب ہے یا ہر روزے کے بدلے ایک صدقۂ فطر کی مقدار مسکین کو دے دیں ۔  (1) 
سوال	کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے اور یہ کیوں  منع ہے ؟ 
جواب	پانچ دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے ، چار دن عید الاضحیٰ کے (  10سے 13ذی الحجہ) اور ایک دن عید الفطر کا ۔  کیونکہ یہ دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے بندوں کی دعوت کے ہیں ۔  (2) 
سوال	جس دن سفر پر روانہ ہونا ہے کیا اس دن روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ؟ 
جواب 	اگر سفر کا آغاز دن میں کرنا ہے تو اس دن کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں البتہ اگر دورانِ سفر روزہ توڑ دیا تو کفّارہ لازِم نہیں آئے گا مگر گُناہ ضرور ہوگا اور روزہ قَضا کرنا فرض رہے گا ۔  (3) 
سوال	کسی نے غروبِ آفتاب سے پہلے کل کے روزے کی نیّت کی پھر بے ہوش ہوگیا اورضحوۂ کُبریٰ کے بعد ہوش آیا تو کیا اس کا روزہ ہوجائے گا؟ 
جواب 	نہیں ہوگا کیونکہ ادائے روزۂ رمضان ، نذرِ مُعَیَّن اور نفلی روزوں کے لیے نیّت کا وقت غروبِ آفتاب سے ضحوۂ کُبریٰ تک ہے اس وقت کے اندر جب بھی 



________________________________
1 -     درمختار ، کتاب الصوم ، باب مایفسد الصوم وما لا یفسدہ ، فصل فی العوارض ، ۳ /  ۴۷۱ ۔ 
2 -     فتاوی رضویہ ، ۱۰ /  ۳۵۱ ، ماخوذ اً ۔ 
3 -     فتاوی ھندیة ، کتاب الصوم ، الباب الخامس  فی الاعذار التی تبیح الافطار ، ۱ /  ۲۰۶ ، فیضان رمضان ، ص۱۴۴ ۔