آخری دوشرطیں نہیں پائی گئیں تو دی ہوئی زکوٰۃ نفلی صَدَقہ شمارہوگی ۔ (1)
سوال کیا مستحق کو زکوٰۃ دیتے وقت زکوٰۃ کہہ کر دینا ضروری ہے ؟
جواب زکوٰۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکوٰۃ کہہ کر دے ، بلکہ صرف نیّتِ زکوٰۃ کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہِبَہ یا قرض کہہ کر دے اور نیّت زکوٰۃ کی ہوادا ہوگئی ۔ بعض محتاج ضرورت مند زکوٰۃ کا روپیہ نہیں لینا چاہتے ، انہیں زکوٰۃ کہہ کر دیا جائے گا تو نہیں لیں گے لہٰذا زکوٰۃ کا لفظ نہ کہے ۔ (2)
سوال کیازکوٰۃ کی نیت سے کسی شرعی فقیر کو کھانا کھلانے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟
جواب مباح کر دینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی مثلاً فقیر کو بہ نیّتِ زکوٰۃ کھانا کھلا دیا زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا ، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یالے جائے تو ادا ہوگئی ۔ یونہی بہ نیّتِ زکوٰۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنا دیا ادا ہوگئی ۔ (3)
سوال کوئی شے گِروِی رکھوائی تو اُس کی زکوٰۃ کون ادا کرے گا ؟
جواب جو چیز گِروِی رکھوائی گئی ہے اس کی زکوٰۃ نہ گِروی رکھوانے والے پر لازم ہے اور نہ ہی جس کے پاس گِروی رکھوائی گئی ہے اُس پر لازم ہے کیونکہ جس کے پاس وہ چیز گروی ہے وہ اس کا مالک نہیں اور گروی رکھوانے والے کی بھی ملکیت کامل نہیں کیونکہ وہ چیز اب اس کے قبضے میں ہی نہیں اور جب وہ چیز گروی رکھوانے والے کے قبضہ میں آئے گی تو جتنی مُدّت وہ چیز گروی تھی اس
________________________________
1 - فتاویٰ اہلسنّت ، احکام زکاۃ ، ص۱۶۵ ۔
2 - فتاوی ھندیة ، کتاب الزکاة ، الباب الاول فی تفسیرھا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۱۷۱ ، بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ / ۸۹۰ ، ملتقطاً ۔
3 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الزکاة ، ۳ / ۲۰۴ملخصاً ، بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ / ۸۷۴ ۔