سوال کیا حاجتِ اصلیہ پوری کرنے کے لیے جمع کی گئی رقم پر بھی زکوٰۃ ہے ؟
جواب حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا کیا اور جو باقی رہے اگر بقدرِ نصاب ہیں تو ان کی زکوٰۃ واجب ہے ، اگرچہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے اور اگر سال تمام ( یعنی سال مکمل ہونے ) کے وقت حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔ (1)
سوال کس صورت میں زکوٰۃ دیتے وقت نیّت نہ ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟
جواب ( 1) ایک شخص کو وکیل بنایا اُسے دیتے وقت تو نیّتِ زکوٰۃ نہ کی ، مگر جب وکیل نے فقیر کو دیا اُس وقت مُؤکِّل نے نیّت کرلی ، ہوگئی ۔ (2) ( 2) دیتے وقت نیّت نہیں کی تھی ، بعد میں کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اُس کی مِلْک میں ہے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔ (3)
سوال کیا ایڈوانس زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟
جواب سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے تین شرائط ہیں : ( 1) زکوٰۃ ادا کرتے وقت اس مال پر سال شروع ہوچکا ہو ( 2) جس نصاب کی زکوٰۃ ادا کی وہ نصاب سال کے آخر میں کامل طور پر پایا جائے ( 3) زکوٰۃ ادا کرنے اور سال پورا ہونے کے درمیان وہ مال ہلاک نہ ہو ۔ (4) اگر سال پورا ہونے سے پہلے
________________________________
1 - ردالمحتار ، کتاب الزکاة ، مطلب فی زکاة ثمن المبیع وفاء ، ۳ / ۲۱۳ ملخصاً ، بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ / ۸۸۱ ۔
2 - جوھرة نیرة ، کتاب الزکاة ، الجزء الاول ، ص۱۴۹ ۔
3 - درمختار ، کتاب الزکاة ، ۳ / ۲۲۲ ، بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ / ۸۸۶ماخوذاً ۔
4 - فتاوی ھندیة ، کتاب الزکاة ، الباب الاول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا ، ۱ / ۱۷۶ ۔