Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
120 - 360
		میں سب کی نیّت کر لے اور افضل یہ ہے کہ سب کی علیحدہ علیحدہ پڑھے ۔   اگر سب کی ایک ساتھ پڑھیں تو اس بات کا اختیار ہے کہ سب کو آگے پیچھے رکھیں یعنی سب کا سینہ امام کے مُقابِل ہو یا برابر برابر رکھیں یعنی ایک کے پاؤں کی طرف دوسرے کا سر ہو اوردوسرے کے پاؤں کی طرف تیسرے کا سر ہو ۔  اگر آگے پیچھے رکھے تو امام کے قریب اس کا جنازہ ہو جو سب میں افضل ہو پھر اُس کے بعد جو ا فضل ہو ۔  (1) 
سوال	کیا ایک مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھی جاسکتی ہے ؟ 
جواب	اگر ولی نمازجنازہ  پڑھ چکا یا اس کی اجازت سے ایک بار نماز ہوچکی تو اب دوسروں کو مطلقاً جائز نہیں ، نہ ان کو جو پڑھ چکے نہ اُن کو جو باقی رہے ۔  (2) مگر جب ولی کے سوا کسی ایسے شخص نے نماز پڑھائی  جو ولی پر مُقَدَّم نہ ہو اورولی نے اُسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے لیکن اس دوسری نماز میں وہی لوگ جنازہ پڑھ سکتے ہیں جنہوں نے پہلے نہ پڑھی ہو ، جو پہلے شریک تھے اب ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے اور اگر ایسے شخص نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہِ اسلام یا قاضی یا محلے کا وہ امام جو ولی سے افضل ہو تو اب ولی بھی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا ۔  (3) 
سوال	اگر میت کو غسل دیئے بغیر نمازِ جنازہ پڑھ لی تو  کیا حکم ہے ؟ 



________________________________
1 -     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب صلاةالجنائز ، ۳ /  ۱۳۸ ۔ 
2 -     فتاویٰ رضویہ ، ۹ /  ۳۱۸ ۔ 
3 -     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، مطلب تعظیم اولی الامر واجب ، ۳ /  ۱۴۴.
فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، ۱ /  ۱۶۳ ۔