کے تین بچے فوت ہوجائیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان والدین کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا ۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی : اگر دو بچے فوت ہوں تو؟ ارشاد فرمایا : دوہوں تب بھی یہی فضیلت ہے ۔ عرض کی : اگر ایک بچہ ہوتو؟ ارشادفرمایا : ایک ہوپھر بھی یہی فضیلت ہے ۔ (1)
سوال اچانک آنے والی موت کے متعلق حدیثِ پاک میں کیا فرمایا گیا ہے ؟
جواب حضورنبی ِکریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے ہیں کہ اچانک موت مؤمن کے لیے راحت اورفاجر ( کافروفاسق) کے لیے پکڑ ہے ۔ (2)
سوال کون سا شخص جنت میں جاکر بھی دنیا میں واپسی کی تمنا کرے گا؟
جواب حدیث شریف میں ہے کہ شہید اس بات کی تمنا کرے گا کہ وہ پھر لوٹ کر دنیا میں جائے اور دس مرتبہ راہِ خدا میں قتل ہوکر شہید ہو ۔ (3)
سوال حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت کعب اَحباررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے جب موت کی سختیوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کیا جواب دیا؟
جواب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : اے امیر المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! موت ایک ایسی کانٹے دار ٹہنی کی طرح ہے جسے کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کیا جائے اور اس کا ہر کانٹا ایک ایک رگ میں پیوست ہو جائے ، پھر کوئی طاقتور شخص اس ٹہنی کو اپنی پوری قوت سے کھینچے تو اس ٹہنی کی زد میں آنے والی ہر چیز
________________________________
1 - مسند امام احمد ، مسند معاذ بن جبل ، ۸ / ۲۵۴ ، حدیث : ۲۲۱۵۱ ۔
2 - شعب الایمان ، باب فی الصبر علی المصائب ، فصل فی النھی عن شق الثوب ولطم الوجہ ، ۷ / ۲۵۵ ، حدیث : ۱۰۲۱۸ ۔
3 - بخاری ، کتاب الجھاد ، باب تمنی المجاھد ان یرجع الی الدنیا ، ۲ / ۲۵۹ ، حدیث : ۲۸۱۷ ۔