Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
106 - 360
 بعد کہہ لے يا رکوع میں اور قِرَاءَ ت کا اعادہ نہ کرے ۔  (1) 
سوال	جس شخص کی نمازِعید کی جماعت نکل جائے کیاوہ اپنے طور پر پڑھ سکتا ہے ؟ 
جواب	امام نے نماز پڑھ لی اور کوئی شخص باقی رہ گیا خواہ وہ شامل ہی نہ ہوا تھا یا شامل تو ہوا مگر اس کی نماز فاسد ہوگئی تو اگر دوسری جگہ مل جائے پڑھ لے ورنہ نہیں پڑھ سکتا ، ہاں بہتر یہ ہے کہ یہ شخص چار رکعت چاشت کی نماز پڑھے ۔  (2) 
سوال	امام کا خطبۂ عید  سے پہلے اور بعد میں تکبیر کہنے کا حکم بیان کیجئے ؟ 
جواب	نمازِ عید میں پہلے خطبہ سے قبل نو بار اور دوسرے سے پہلے سات بار اور منبر سے اترنے سے پہلے چودہ بار اللہ اَکْبَرکہنا سنت ہے ۔  (3) 
سوال	کیا نمازِ عید دوسرے دن بھی پڑھی جاسکتی ہے ؟ 
جواب	کسی عذر کے سبب عید کے دن نماز نہ ہو سکی  (  مثلاً سخت بارش ہوئی یا ابر کے سبب چاند نہیں دیکھا گیا اور گواہی ایسے وقت گزری کہ نماز نہ ہو سکی یا ابر تھا اور نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ زوال ہو چکا تھا) تو دوسرے دن پڑھی جائے اور دوسرے دن بھی نہ ہوئی تو عیدالفطر کی نماز تیسرے دن نہیں ہو سکتی اور دوسرے دن بھی نماز کا وہی وقت ہے جو پہلے دن تھا یعنی ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے نِصْفُ النہار شرعی تک اور بلاعذر عِیدُالفطر کی نماز پہلے دن نہ پڑھی تو دوسرے دن نہیں پڑھ سکتے ۔  (4) 



________________________________
1 -     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب السابع عشر ۔ ۔  ۔ الخ ، ۱ /  ۱۵۱ ، غنیۃ المتملی ، فصل فی صلاة العید ، ص۵۷۲ ۔ 
2 -     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب العیدین ، ۳ /  ۶۷ ۔ 
3 -     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب العیدین ، ۳ /  ۶۷ ۔ 
4 -     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب السابع عشر فی صلاة العیدین ، ۱ /  ۱۵۱ ، بہارشریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۷۸۴ ۔