Brailvi Books

بریک ڈانسر کیسے سدھرا
27 - 32
کا تاج اور بدن پر سنّت کے مطابق مدنی لباس سجالیا اور رفتہ رفتہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا گیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ    آج میں 30 دن کے تربیتی اعتکاف کی خوب خوب برکتیں لوٹنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ 
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!		صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{12}بے نمازی، نمازی بن گیا
	بمبئی(الھند) کے علاقے ساکی ناکہ (خیرانی روڈ) کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کالُبِّ لُبَابْ ہے کہ بچپن ہی سے دینی ماحول سے دوری اور ماڈرن دوستوں کی صحبت کی وجہ سے میرے شب وروزگناہوں میں بسر ہو رہے تھے۔ میں زندگی کے قیمتی لمحات فضولیات میں برباد کر رہا تھا۔ مذہبی لوگوں سے کوسوں دور رہنے کی وجہ سے دین کی طرف بھی کچھ خاص میلان نہ تھا۔ نمازوں کی ادائیگی سے غفلت کا عالم یہ تھا کہ جمعہ کی نماز بھی کبھی کبھار پڑھتا۔ والدین نماز روزے کے بارے میں تاکید کرتے مگر سُنی ان سنی کر دیتا۔ بالآخر میری قسمت کا ستارہ چمکا اور گناہوں بھری زندگی سے نجات کاسبب کچھ اس طرح بنا کہ جب میں کالج میں پہنچا تو یہاں دعوتِ اسلامی کی مجلس شعبۂ تعلیم کے اسلامی بھائیوں سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے پیار بھرے