کچھ اس طرح آئی کہ ایک روز دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک اسلامی بھائی نے نہایت شفقت کے ساتھ انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی مگر میں نے انکارکردیا۔ اُن کی استقامت پرقربان! انھوں نے ہمت نہ ہاری اور خیرخواہی کے جذبے کے تحت مجھے وقتاًفوقتاً انفرادی کوشش کرتے ہوئے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کرتے رہتے۔ جبکہ میں بدنصیب کبھی کبھار انہیں غصے میں جھڑک بھی دیتا مگروہ حیرت انگیز طور پر مسکرا دیتے۔ ان کی مسلسل انفرادی کوشش آخر کار رنگ لائی اور ایک روز میں ان کے ہمراہ ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کے لیے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ پرانی سبزی منڈی میں حاضر ہو ہی گیا۔ اجتماع میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا پرسوز بیان سن کر بہت متأثرہوا اور جب رِقّت انگیز دعا شروع ہوئی تومیرے دل کی دنیا ہی بدلنے لگی اپنے کرتوتوں پرندامت سے پانی پانی ہو گیا اور ہاتھوں ہاتھ اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کی اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دستِ بابرکت پر بیعت کر کے سرکارِ غوثِ پاک عَلَیْہ رَحْمَۃُاللہِ الرَّزّاق کے مریدوں میں شامل ہوگیا۔ ان اسلامی بھائی کی مزید انفرادی کوشش کی برکت سے چہرے پر پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری سنّت داڑھی شریف اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف