اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَ تَوَسَّلُ وَاَ تَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ
مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا رَسُوْلَ اللہِ ۱؎ اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ
اِلٰی رِبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ اللھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ
ترجمہ:ا ے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور توسل کرتا ہوں اور تیری طرف مُتَوَجِّہ ہوتا ہوں تیرے نبی محمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذَرِیعے سے جو نبیِّ رحمت ہیں ۔ یا رسول َاللہ ! (عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعالیٰ عَلَیہ واٰلہ وسَلَّم) میں حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذَرِیعے سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف اِس حاجت کے بارے میں مُتَوَجِّہ ہوتا ہوں ، تاکہ میری حاجت پوری ہو۔ ’’الٰہی! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔‘‘
سیِّدُنا عثمان بن حُنیَف رَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْہ فرماتے ہیں : ’’خدا کی قسم! ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے، باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آئے، گویا کبھی اندھے تھے ہی نہیں۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر، ج۹ص۳۰حدیث۸۳۱۱،بہارشریعت،حصہ ۴ص۳۴ )
اس واقعہ کے بعد میں نے ان کی صحبتِ بد سے جان چھڑالی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ اب اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں پابندی سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرتا ہوں اور میرے گھرکے تمام
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎ حدیثِ پاک میں اس جگہ ’’یا محمد‘‘ (صَلَّی اﷲ تَعَالیٰ عَلیہ وسَلَّم) ہے۔ مگر مجدِّدِ اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ’’یا محمد‘‘ (صَلَّی اﷲ تَعَالیٰ عَلیہ وسَلَّم) کہنے کے بجائے، یا رسولَ اﷲ (عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اﷲ تعالیٰ عَلَیْہ وسَلَّم) کہنے کی تعلیم دی ہے۔