دیکھنے سے باز رکھے ہوئے تھی، ہم ان کے ساتھ مل کر لوگوں کو دامِ فریب میں پھانستے اوران کے عقائد بگاڑنے میں لگے رہتے۔ میرا چھوٹا بھائی گلزارِطیبہ (سرگودھا) کالج میں زیرِتعلیم تھا خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کالج میں دعوتِ اسلامی کی مجلس شعبہ ٔ تعلیم کے اسلامی بھائیوں نے اُسے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتما ع کی دعوت پیش کی جو کہ اُن دنوں گلزارطیبہ( سرگودھا) کی مرکزی جامع مسجد سید حامد علی شاہ میں ہوتا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ دعوت ِاسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگا۔ جب وہ چھٹیوں میں گھر آیا تو مجھ سے کہنے لگا ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی شب و روز تعلیمِ قراٰن اور احیائے سنّت کے لیے کوشاں ہے اور لوگوں کے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ کی شمع فروزاں کر رہی ہے۔ اس کے بانی ولیٔ کامل، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارقادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں جو کہ صاحبِ کرامت بزرگ ہیں۔‘‘ بدمذہبوں کی صحبت کی وجہ سے میرا دل سیاہ ہو چکا تھا ولیٔ کامل کا ذکر سُن کر میں آپے سے باہر ہو گیا اور اُول فول بکنے لگا۔ لیکن بھائی کی باتوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں بدمذہبوں کے افعال واقوال پر غور کرنے لگا تو مجھے اُن میں نہ خوفِ خدا نظر آیا نہ عشقِ مصطفیٰ بلکہ ایک ہی مقصدتھا کھاؤ پیو جان بناؤ اورخوب بدمذہبی پھیلاؤ۔ ایک دن نجانے انھیں کیا سوجھی مجھے کہنے لگے: آپ نعت سناؤ۔ میں نے