Brailvi Books

بریک ڈانسر کیسے سدھرا
20 - 32
انگیز دعا کے دوران شرکائے اجتماع کی آہ وزاری سے بے حد متأثر ہوا۔ میرے دل کی دُنیا زیروزبر ہوگئی۔ میں بھی اپنے گناہوں کو یاد کر کے خوب رویا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے اُسی اجتماع میں سچے دل سے توبہ کرلی۔  کل تک میں فلموں ڈراموں کاشوقین تھا مگر ابسنّتوں کا دیوانہ بن گیا۔ میں نے سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجالیا، مدنی لباس زیب تن کرلیا، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے حضور غوثِ پاک عَلَیہِ رحمۃُاللہِ الرَّزّاقکا مرید ہونے کی سعادت حاصل کی۔ مجھ پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کاایساکرم ہوا کہ میں مدرستہ المدینہ میں داخل ہو گیا اور قراٰن پاک کے نور سے اپنے قلب کو منور کرنے لگا۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے کہ جس نے مجھے نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ عطا کردیا۔ 
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!	صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{9}بدمذہبوں کے چُنگل سے نکل آیا
	منڈی بہاؤ الدین(پنجاب، پاکستان)میں چک نمبر3کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ہمارا سارا گھرانہ مسلک ِحق اہلسنّت سے تعلق رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے میں اور میرے بھائی ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے کہ جن کی تحریر وتقریر عشقِ مصطفی کی چاشنی سے ناآشنا تھی ۔اولیاء ُاللہ رَحِمَھُمُ اللہ سے نسبت قائم کرنا، اُن کے نزدیک توحید کے مُنافی تھا۔ ایسے بد عقیدہ ماحول میں رہنے کی وجہ سے ہماری آنکھوں پر بھی تعصب کی پٹی بندھ چکی تھی جو ہمیں راہِ حق