مدنی کام دھیرے دھیرے بڑھنے لگا۔ مدنی ماحول سے منسلک سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے اسلامی بھائی مجھ سے ملتے اور بڑے ہی شفقت بھرے انداز میں انفرادی کوشش کرتے۔ اصلاح ِ امّت کے جذبے سے سرشار اسلامی بھائیوں کی مسلسل انفرادی کوشش آخر کار رنگ لائی اور شاید پہلی مرتبہ میں حقیقی معنوں میں اپنی آخرت کے لئے فکر مند ہوا۔ ایک بار جب ایک اسلامی بھائی نے حسب ِمعمول مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی تو میں انکار نہ کر سکا اور گناہوں کا بوجھ اُٹھائے اجتماع میں شریک ہوا۔ وہاں میں نے مبلغِ دعوتِ اسلامی کا بیان سُنا جو بڑا دلنشیں اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللہ کی صداؤں اور رقّت انگیز دُعا نے مجھے بہت متأثر کیا۔ اجتماع میں موجود نوجوان اسلامی بھائیوں کے چہروں کی نورانیت، حیاء سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنّت کے مطابق سفید لباس اور سر پر سبز سبز عمامہ اور زُلفیں ،بقدرِ ضرورت گفتگو کا باادب انداز خوش اخلاقی اور ملنساری دیکھ کر میں بہت متأثر ہوا اور مجھے قلبی سکون ملا۔ میں حیران تھا کہ آج کے اس پرفتن دور میں ایسا پاکیزہ ماحول بھی ہے جہاں نوجوانوں کی ایسی اصلاح ہوتی ہے۔ یوں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول نے میرا دل جیت لیا اور میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہو گیا۔ نمازوں کی پابندی شروع کر دی، مدنی کاموں میں حصہ لینے لگا۔ چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجالی۔ عمامہ شریف کے تاج سے ’’سرسبز‘‘ ہو گیا۔ اب میں