میرے دل پر پڑے غفلت کے پردوں کو خوفِ خدا سے بہنے والے آنسوؤں کے ذریعے دھو دیا۔ میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی، نمازکی پابندی
اور سنّتوں پر عمل کا عزمِ مصمم (مُ-صَمْ-مَمْ)کیا اور پابندی سے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ اجتماع میں شرکت کی برکت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی رنگ میں رنگتا گیا، تادم تحریر ذیلی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کاموں میں مشغول ہوں۔
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{7}میراتن من دھن دعوتِ اسلامی پرقربان
جَلالپور جَٹَّاں (ضلع گجرات، پاکستان)کے محلہ کشمیرنگرکے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں دین سے بہت دورتھا۔ جس کے سبب نیک اعمال کرنے سے بھی محروم تھا۔ مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ مذہبی لوگوں سے تو دور بھاگتا تھا۔ زندگی کے شب وروز یوں بداعمالیوں میں بسر ہو رہے تھے، نہ نیکیاں کرنے کا جذبہ تھا نہ ہی گناہوں سے بچنے کا ذہن۔ سیاہ راتوں کی طرح میری گناہوں بھری زندگی میں نیکیوں کا اُجالا کچھ اس طرح ہوا کہ ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کا