کرنے پرپتہ چلاکہ دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع ہو رہا ہے جس میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سنّتوں بھرا اصلاحی بیان بذریعہ ٹیلیفون سنا جا رہا ہے۔ میں بھی اس اجتماع میں شریک ہو گیا اور بغور بیان سننے لگا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی ایسا اصلاحی بیان نہیں سنا تھا۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے پُراثر کلمات تاثیر کا تیر بن کر میرے دل میں پیوست ہو گئے۔ اجتماع کے مناظر بالخصوص ذکر ،دعا اور سیکھنے سکھانے کے حلقے میرے ذہن پر ایسے نقش ہوئے کہ پھر کوئی اور تصویر خیال میں نہ ابھر سکی میں اجتماع کے پرکیف نظاروں سے بے حدمتأثر ہوا، میری زندگی تو ایسے رِقَّت انگیز مناظر سے ناآشنا تھی میں نے اپنے سابقہ گناہوں کے ساتھ ساتھ بدعقیدگی سے بھی توبہ کر لی اور پابندی سے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگا میرے گھر والے اجتماع میں آنے سے روکتے مگر میں نے حکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے اپنے بھائی پر انفرادی کوشش کر کے اسے بھی سنّتوں بھرے اجتماع کے لئے تیار کر لیا۔ میں ان کے ساتھ اجتماع میں شرکت کرتا رہا ،یوں میں اور میرا بھائی مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئے اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے لگے۔