Brailvi Books

بریک ڈانسر کیسے سدھرا
13 - 32
گھرانے سے تھا اور میں اپنے نانا کے ہاں رہائش پذیر تھا۔ کچھ عرصہ بعد میرے چچا نے وہاں سے مجھے واپس بلوالیا۔ ایک مرتبہ نمازپڑھنے کے لئے مسجد گیا تو ایک عاشقِ رسول سبز عمامے والے اسلامی بھائی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے نہایت دلنشیں انداز میں مجھے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں ان کے محبت بھرے انداز سے بہت متأثرہوا اور ان کی دعوت پر لَبَّیْک کہتے ہوئے جب پہلی بار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا تو اجتماع میں ہونے والے پرسوز بیان اور رقت انگیز دعا نے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا کر دیا جس کی وجہ سے مجھے قلبی سکون ملا۔ بس پھر تو سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا میرا معمول بن گیا۔ جب گھروالوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ مجھے بڑی سختی سے منع کر دیا گیا کہ آئندہ ان لوگوں کے ساتھ کہیں مت جانا، میری نیت اچھی تھی،اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عطا کردہ توفیق سے میں کسی نہ کسی طرح اجتماع کی پرکیف بہاروں میں پہنچ ہی جاتا۔ اب میرا نیکیاں کرنے کا جذبہ روزبروز بڑھتا جا رہا تھا۔ اپنی والدۂ محترمہ سے مدنی قافلے میں سفر کی اجازت طلب کی، والدہ نے شفقت فرماتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی۔ کچھ عرصہ بعد 12دن کے مدنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل کی۔ کرم بالائے کرم کہ رمضان المبارک میں اجتماعی اعتکاف کی برکتیں لوٹنے کا موقع بھی