’’ سُنَّتیں اورآداب ‘‘ ہَدِیَّۃحاصل کیجئے اورپڑھئے ۔ سُنَّتوں کی تربیّت کاایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سُنَّتوں بھرا سفر بھی ہے ۔
علم حاصل کرو ، جہل زائل کرو پاؤ گے راحتیں ، قافلے میں چلو
سُنّتیں سیکھنے ، تین دن کے لئے ہر مہینے چلیں ، قافلے میں چلو(1)
٭…٭…٭…٭
اپنے متعلق برائی سنیں توکیاکریں؟
حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں : مجھے جب بھی کسی شخص کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی تو میں نے اس کی چھان بین کرنے کے بجائے اسی سے پوچھنا زیادہ مناسب جانا ، اگر اس نے کہہ دیا کہ ’’ میں نے ایسا نہیں کہا ‘‘ تو اس کا یہ کہنا مجھے اس کے خلاف آٹھ گواہوں سے زیادہ اچھا لگا اور اگر کہا کہ ’’ میں نے ایسا کہا ہے ‘‘ اور پھر معذرت بھی نہ کی تو جتنا وہ مجھے اچھا لگتا تھا اتنا ہی برا لگنے لگا ۔ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوفرماتے سنا : جب بھی مجھے میرے کسی بھائی کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی تو میں نے اسے تین مراتب پر رکھا : اگر وہ مجھ سے بڑا ہے تو میں نے اس کی قدر ومنزلت پہچان لی ، اگر میرے برابر کا ہے تو اس پر مہربانی کی اور اگر چھوٹا ہے تو پروا ہی نہیں کی ، میرا یہ طریقہ اپنے لیے ہے جو اس سے ہٹ کر چلنا چاہے تو بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی زمین بہت بڑی ہے ۔ ( حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء ، ۴ / ۸۸ ، رقم : ۴۸۳۵)
________________________________
1 - وسائل بخشش ، ص۶۶۹ ، ۶۷۰