باذنِ الٰہی بندے بھی مدد کرتے ہیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہوسکتاہے یہ سُن کر کسی کو یہ وَسْوَسہ آئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کسی سے مدد مانگنی ہی نہیں چاہئے کیونکہ جب اللہعَزَّ وَجَلَّمدد کرنے پرقادِر ہے تو پھرغوثِ پاک یا کسی اوربزرگ سے مدد کیوں مانگیں؟جواباً عرض ہے کہ یہ شیطان کا خطرناک ترین وارہے اوراس طرح وہ نہ جانے کتنے لوگوں کوگمراہ کردیتاہے ۔ حالانکہاللہعَزَّ وَجَلَّ نے کسی نبی ، ولی یا نیک مومن سے مد د مانگنے سے منع ہی نہیں فرمایا بلکہ قرآنِ کریم میں جگہ جگہاللہعَزَّ وَجَلَّنے دوسروں سے مددمانگنے کی اِجازت عطافرمائی ہے ، ہرہرطرح سے قادرِ مُطْلَق ہونے کے باوُجُود بَذا تِ خُود اپنے بندوں سے دِیْنِ حق کی مدد کے لیے ترغیب ارشاد فرمائی ہے ۔ چُنانچِہ پارہ26 ، سورۂ محمد ، آیت نمبر7میں ارشاد ہوتاہے :
اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ ( پ۲۶ ، محمد : ۷) ترجمۂ کنز الایمان : اگرتم دِیْنِ خُداکی مددکروگے اللہتمہاری مددکرے گا ۔
سیِّدُنا عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکامدد طلب فرمانا :
حضرت سیِّدُناعیسیٰرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے حَوارِیوں سے مددطلب فرمائی ۔ چُنانچِہ پارہ28 ، سُوْرَۃُ الصَّف ، آیت نمبر14 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ ( پ۲۸ ، الصف : ۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان : عیسیٰ بن مریم نے حَواریوں سے کہاتھاکون ہے جواللہکی طرف ہوکرمیری مدد کریں حَواری بولے ہم دِیْنِ خُداکے مددگار ہیں ۔