یاددلانے کے بعدفرمایا : ”میں تو تمہارے پاس لاکھوں دیکھ رہا ہوں اور تم محتاجی کی شکایت کر رہے ہو؟“(1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
محبت الٰہی کا ایک آسان ذریعہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جو خوش نصیب مسلمان آپس میں محبت رکھتے ہیں اور اللہعَزَّ وَجَلَّکی رِضاکے لیے جمع ہوتے ہیں مثلاًدعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اِجتماع میں آتے ہیں ، مَدْرَسَۃُالْمَدِیْنَہبالغان میں پڑھتے پڑھاتے ہیں ، مدنی درس دیتے یا سُنتے ہیں ، مدنی قافلوں کے مسافربنتے ہیں ، بعدِفجرمدنی حلقے میں شرکت کی سعادت پاتے ہیں الغرض جوبھی رضائے الٰہی کے لیے جمع ہوتے ، اللہعَزَّ وَجَلَّکی خوشنودی کے لیے ایک دُوسرے سے ملتے اورایک دُوسرے پرمال خرچ کرتے ہیں ، اُنہیں محبتِ اِلٰہی حاصل ہوتی ہے ۔ چنانچہ
حدیْثِ قُدسی میں ہے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّاِرشاد فرماتا ہے : ”جو لوگ میری وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ، میری وجہ سے ایک دُوسرے کے پاس بیٹھتے ، آپس میں مِلتے جُلتے اورمال خرچ کرتے ہیں ان کے لیے میری محبت واجب ہو گئی ۔ “(2)
اللہعَزَّ وَجَلَّکی بندے سے مَحَبَّت :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح بندے اپنے خالق ومالک عَزَّ وَجَلَّسے مَحَبَّت کرتے ہیں اسی طرحاللہعَزَّ وَجَلَّبھی اپنے بندوں سے مَحَبَّت فرماتاہے نیزاللہعَزَّ وَجَلَّکی بندے سے مَحَبَّت کئی اعتبارسے ہوسکتی ہے مثلاًاللہعَزَّ وَجَلَّ کابندے سے راضی ہونا ، اس سے خیرکا
________________________________
1 - حلیة الاولیاء ، یونس بن عبید ، ، ۳ / ۲۵ ، رقم : ۳۰۱۷
2 - موطاامام مالک ، کتاب الشعر ، باب ماجاء فی المتحابین فی الله ، ۲ / ۴۳۹ ، حدیث : ۱۸۲۸