نے کبھی غورہی نہیں کیاحالانکہ اس کی ایک چھوٹی سی نعمت بھی ہماری کئی سوسال کی عِبادت ورِیاضت سے بڑھ کر ہے ۔ چُنانچہ
400سالہ عبادت اورایک نعمت :
مَنقول ہے کہ اگلی اُمَّتوں میں سے ایک شخص جس نے 400برساللہعَزَّ وَجَلَّکی عبادت کی ہوگی اوراس کے نامَۂ اعمال میں ایک گناہ بھی نہ ہوگا ۔ قیامت کے روز اس کے بارے میں حکْمِ خداوندی ہوگا : ’’ اس کی400سال کی عبادت میزان کے ایک پلڑے میں اور ہماری نعمتوں میں سے صرف آنکھ کی نعمت دُوسرے پلڑے میں رکھو ۔ ‘‘ جب وزن کِیا جائے گا تو 400برس کے اعمال سے ایک یہ نعمت کہیں زِیادہ ہوگی ۔ (1)
لہٰذاہمیں اس کی عَطاکردہ نعمتوں کوہروَقْت پیشِ نَظررکھتے ہوئے اِس کاشُکرادا کرتے رہناچاہیے ، اِس سے حُکمِ شُکْرپرعمل کے ساتھ ساتھ محبَّتِ الٰہی میں بھی اضافہ ہوگا نیز نعمتوں میں غوروفکر سے اُن کی قدروقیمت کا بھی احساس ہوگا ۔
اِصلاح کاانوکھاانداز :
ایک شخص حضرت سیِّدُنایونس بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تنگدستی کی شکایت کرنے لگاتو آپ نے اس سے پوچھا : ”جس آنکھ سے تم دیکھ رہے ہو کیااس کے بدلے ایک لاکھ دِرہم تمہیں قبول ہیں؟“اس نے عرض کی : نہیں ۔ فرمایا : ”کیا تیرے ایک ہاتھ کے عوض لاکھ درہم؟“اس نے کہا : نہیں ۔ پھرفرمایا : ”توکیاپاؤں کے بدلے میں؟“ جواب دیا : نہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اسے اللہعَزَّ وَجَلَّکی دیگر نعمتیں
________________________________
1 - ماخوذازملفوظات ، ص۲۸۲