Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
425 - 541
نے کبھی غورہی نہیں کیاحالانکہ اس کی ایک چھوٹی سی نعمت بھی ہماری کئی سوسال کی عِبادت ورِیاضت سے بڑھ کر ہے ۔ چُنانچہ
400سالہ عبادت اورایک نعمت : 
	مَنقول ہے کہ اگلی اُمَّتوں میں سے ایک شخص جس نے 400برساللہعَزَّ  وَجَلَّکی عبادت کی ہوگی اوراس کے نامَۂ اعمال میں  ایک گناہ بھی نہ ہوگا ۔  قیامت کے روز اس کے بارے میں حکْمِ خداوندی ہوگا :  ’’ اس کی400سال  کی عبادت میزان کے  ایک پلڑے میں اور ہماری نعمتوں میں سے صرف آنکھ کی نعمت دُوسرے پلڑے میں رکھو ۔   ‘‘ جب وزن کِیا جائے گا تو 400برس کے اعمال سے ایک یہ نعمت کہیں زِیادہ ہوگی ۔ (1) 
	لہٰذاہمیں اس کی عَطاکردہ نعمتوں کوہروَقْت پیشِ نَظررکھتے ہوئے اِس کاشُکرادا کرتے رہناچاہیے ، اِس سے حُکمِ شُکْرپرعمل کے ساتھ ساتھ محبَّتِ الٰہی میں بھی اضافہ ہوگا نیز نعمتوں میں غوروفکر سے اُن کی قدروقیمت کا بھی احساس ہوگا ۔ 
اِصلاح کاانوکھاانداز : 
 ایک شخص حضرت سیِّدُنایونس بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تنگدستی کی شکایت کرنے لگاتو آپ نے اس سے پوچھا : ”جس آنکھ سے تم دیکھ رہے ہو کیااس کے بدلے ایک لاکھ دِرہم تمہیں قبول ہیں؟“اس نے عرض کی : نہیں ۔  فرمایا : ”کیا تیرے ایک ہاتھ کے عوض لاکھ درہم؟“اس نے کہا : نہیں ۔ پھرفرمایا : ”توکیاپاؤں کے بدلے میں؟“ جواب دیا : نہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اسے اللہعَزَّ  وَجَلَّکی دیگر نعمتیں



________________________________
1 -   ماخوذازملفوظات ، ص۲۸۲