Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
427 - 541
 اِرادہ فرمانا ، بندے کی تعریف کرنا ، اسے اپنے ثواب سے مالامال فرمانا ، اس سے عَفْوو دَر گُزر کرنا ، اسے اپنی اطاعت میں مشغول رکھنا اور نافرمانی سے بچانا ۔ (1) 
دِین سیکھنے کی توفیق :
	اللہعَزَّ  وَجَلَّجب اپنے بندے سے مَحَبَّت فرماتا ہے تو اُسے دِین کی مَحَبَّت عطافرمادیتا ہے ۔  چُنانچہ حدیثِ پاک میں ہے کہ اللہتعالیٰ دُنیا اسے بھی دیتا ہے جو اسے محبوب ہواور اسے بھی جومحبوب نہیں لیکن دِین صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کے نزدیک پیارا  ہوتا ہے ، لہٰذا جسے اللہعَزَّ  وَجَلَّنے دِین دیا اُسے مَحبُوب بنالیا ۔ (2) 
مخلوق میں ذکرِ خیر :
	یوں ہی جب اللہعَزَّ  وَجَلَّبندے سے مَحَبَّت کرتا ہے تو اس کے ذِکْرِ خَیْر کو  اپنی مخلوق میں عام فرمادیتاہے ، ہرطرف اس کی نیک نامی اور بھلائی کے چرچے ہونے لگتے ہیں ۔ چنانچہ حُضُورنَبِیِّ پاک ، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالی شان ہے : اللہعَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام کو بُلاکرارشادفرماتاہے : میں فُلاں سے مَحَبَّت کرتا ہوں  تم بھی اس سے مَحَبَّت  کرو ۔ تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اس سے مَحَبَّت  کرتے ہیں اورآسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ فُلاں سے مَحَبَّت  کرتا ہے تم بھی اس سے مَحَبَّت  کرو ۔  تو آسمان والے اس سے مَحَبَّت  کرتے ہیں پھراس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب رب تعالیٰ کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے توارشادفرماتاہے : میں فُلاں سے ناراض ہوں تم بھی اس سے ناراض ہوجاؤ ۔ فرمایا : حضرت



________________________________
1 -   تفسیربیضاوی ، پ۱ ، البقرة ، تحت الاية۱۶۴ ، ۱ /  ۴۴۱ ۔ تفسیر خازن ، پ۳ ، ال عمرٰن تحت الاية : ۳۱ ، ۱ / ۲۴۳
2 -   شعب الایمان ، باب فی قبض الید عن الاموال المحرمة ، ۴ / ۳۹۵ ، حدیث : ۵۵۲۴