کے ساتھ ساتھ نماز ، وضووغسل اوردیگرکئی ضروری مسائل سیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ رفتہ رفتہ ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت اورمدنی قافلوں میں سفرکی سعادت حاصل کرنے لگا ۔ اسی دوران شیْخِ طریقت ، امیْرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مریدہوکر حضورغوثِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی غلامی کاپٹہ بھی گلے میں ڈال لیا ۔ اللہعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں صدقِ دل سے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور آئندہ قراٰن و سنّت کے احکامات پرعمل کرتے ہوئے زندگی بسرکرنے کا پختہ ارادہ کر لیا ، نمازِ پنجگانہ کا پابند ہو گیا ، سرکوسبزسبزعمامہ شریف کے تاج اورچہرے کوداڑھی شریف کے نورسے مزیَّن کرلیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ! جلد ہی میں نے تجوید کے ساتھ مکمل قراٰن پاک پڑھ لیا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نعمتِ الٰہی میں غوروفکرمَحَبَّتِ الٰہی کا ذریعہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہعَزَّ وَجَلَّکے فضل واحسان اوراس کی چھوٹی بڑی ظاہِری باطِنی نعمتوں کوہر وَقْت پیشِ نظر رکھنابھی مَحبتِ الٰہی کے حُصُول کا مُؤثِّر ذریعہ ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہاللہعَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں پربے شُماراِحسانات فرمائے ، زمین کوفرش بنایا ، آسمان کو بغیر کسی سُتُون کے قائم کیا ، اپنی راہ بتانے اور حق کی دعوت دینے کے لئے حضرات رُسُل وانبیا عَلَیْہِمُ السَّلَامکومَبعُوث فرمایا ، اس کے علاوہ اگرہم اپنی ذات میں غورکریں تو معلوم ہوگاکہاللہعَزَّ وَجَلَّنے ہمیں بے شُمارنعمتیں عطاکررکھی ہیں مثلاًہمیں پیدا کیا اور زِندگی باقی رکھنے کے لیے سانس لینے اورسانس خارج کرنے کا نظام عطا فرمایا ، چلنے کو پاؤں دئیے تو چُھونے کو ہاتھ ، دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا فرمائیں تو سُننے کے لئے کان ، سُونگھنے کو ناک دی تو بولنے کے لئے زبان اور بے شُمار ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن میں آج تک ہم