تپتے صحرامیں بھٹک رہاتھا ۔ فلمیں ڈِرامے دیکھنا ، گانے باجے سُننااورمَعَاذَاللہداڑھی مُنڈوانا میری عاداتِ بدمیں شامل تھا ۔ قرآن و سُنَّت کے اَحکامات پرعمل سے دُوردُنیا کی رنگینیوں میں مَسْروراپنی زِندگی کے قیمتی اَوقات بے عملی اورجہالت کے گھپ اندھیرے میں برباد کررہا تھا ۔ میں بڑا خُوش تھا کہ خُوب مزے کی زندگی بسرہورہی ہے ۔ مگرآہ! مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ عیش کوشیاں میری آخرت بربادکررہی ہیں ۔ اچانک والدصاحب کاسایہ سر سے اُٹھ جانے نے مجھے خوابِ غفلت سے بیدارکردیا ۔ دل کچھ نیکی کی جانب مائل ہوا ، میں نے باجماعت نمازاَداکرنا شُروع کر دی ۔ ایک دن نمازپڑھنے مسجدگیاتو وہاں میری مُلاقات سبزسبزعمامہ شریف کاتاج سجائے ایک باریش اسلامی بھائی سے ہو گئی ، ان کااندازِ مُلاقات اس قَدَر بھلا تھا کہ میں متُأثرہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔ اُنہوں نے سلام و مُصافَحہ کے بعد اِنْفرادی کوشش کرتے ہوئے بڑے اَحْسن اندازمیں تلاوتِ قراٰنِ پاک کاذوق وشوق دِلایا ، مَدْرَسَۃُ الْمَدِیْنَہبالِغان میں شرکت کی دعوت دی ۔ اِصْلاحِ اُمَّت کے جذبہ سے سرشارعاشِقِ رسول اسلامی بھائی کے میٹھے اَنداز کو دیکھ کر میں انکار نہ کر سکا اور مسجد میں عشا کی نمازکے بعدقائم کئے جانے والے مَدْرَسَۃُ الْمَدِیْنَہبالغان میں شرکت کرنے لگا ۔ پہلے دن مبلّغِ دعوت ِاسلامی نے قراٰنِ پاک سُناتو کئی غلطیوں کی نشاندہی کی اور پیار بھرے انداز میں فرمانے لگے : قراٰنِ پاک کو دُرُست مَخارج کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ تَلفُّظ کے دُرُسْت نہ ہونے کی وجہ سے اگر کسی لفظ کا معنیٰ تبدیل ہوجائے توبسااوقات نمازفاسدہوجاتی ہے ۔ مجھے جلدہی اپنی کوتاہیوں کااحساس ہوگیااور میں نے نیّت کرلی کہمَدْرَسَۃُالْمَدِیْنَہبالغان میں پابندی سے شرکت کرکے دُرُست مَخارج سے قرآن پاک پڑھناسیکھوں گا ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ! مَدْرَسَۃُالْمَدِیْنَہبالغان میں شرکت کی برکت سے قرآنِ پاک سیکھنے