تلاوتِ قرآن کا شوق مَحَبَّتِ الٰہی کا ذریعہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا ، اس میں غوروفکر کرنااور اس کے مَعانی ومَفاہیم کوسمجھ کرعمل کرنابھی کارِثواب اورمَحَبَّتِ الٰہی کے حُصُول کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔
محبَّتِ الٰہی کی علامت :
حضرت سیِّدُناسَہْل تُستریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اللہعَزَّ وَجَلَّسے مَحَبَّت کی علامت یہ ہے کہ بندہ قرآنِ پاک سے مَحَبَّت کرے ، مَحبَّتِ الٰہی اورمَحبَّتِ قرآن کی نشانی حُضُورنَبِیِّ مُکَرَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مَحَبَّت کرناہے اورآپ سے مَحَبَّت کی علامت آپ کی سُنَّت سے لگاؤ رکھناہے ۔ (1)
مُحِب کے سچاہونے کی علامت :
لہٰذاہمیں بھی قرآنِ پاک سے سچی مَحَبَّت ہونی چاہیے کیونکہ مُحِب( مَحَبَّت کرنے والے ) کی سچائی تین چیزوں سے ظاہرہوتی ہے : ( ۱) …مُحِب محبوب کی باتوں کوسب سے اچھاسمجھتا ہے ( ۲) …اس کے لئے محبوب کی مجلس سب سے بہتر مجلس ہوتی ہے اور( ۳) …اس کے نزدیک محبوب کی رِضا سب سے عزیز ہوتی ہے ۔ (2)
فلموں سے ڈراموں سے عطا کر دے تو نفرت بس شوق مجھے نعت وتلاوت کا خدا دے (3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - مکاشفة القلوب ، الباب الحادی عشر فی طاعة اللّٰہ ومحبة رسولہ ، ص۳۷
2 - مکاشفة القلوب ، الباب العاشر فی العشق ، ص۳۳
3 - وسائل بخشش مرمم ، ص۱۱۷