اس کی مَحَبَّت میں خَسارہ ہی خَسارہ ہے ۔
دنیاطالب بھی ہے اورمَطْلُوب بھی :
حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن مَسعُودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے رِوایَت ہے کہ شَہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : جس نے اپنے دل کودنیاکی محبت کا جام پلایا وہ دنیا کی تین باتوں میں ضرور مبتلا ہوگا : ( ۱) …ایسی سختی وتنگی جس کی مشقت ختم نہ ہو( ۲) …ایسا لالچ جوپورا نہ ہواور( ۳) …ایسی اُمیدجواپنی تکمیل تک نہ پہنچے ۔ پس دنیا طالب بھی ہے اورمَطْلُوب بھی ۔ جو دنیا طَلَب کرتاہے آخرت اُس کی طَلَب میں رہتی ہے حتّٰی کہ موت آکر اُسے دبوچ لیتی ہے اور جو آخرت طلب کرتاہے دنیا اُس کی طَلَب میں لگ جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس میں سے اپنا رِزْق پورا کرلیتا ہے ۔ (1)
بصرہ كے ایک شیخ حضرت سیِّدَتُنارابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاکے پاس آکردُنیاکی شکایت کرنے لگے توآپ نے فرمایا : غالباًآپ کو دُنیا سے بہت زِیادہ لگاؤ ہے کیونکہ جو شخص جس سے بہت زِیادہ مَحَبَّت کرتاہے اس کا ذکر بھی بہت زِیادہ کرتا ہے ، اگرآپ کو دُنیاسے لگاؤ نہ ہوتا تو آپ کبھی اس کا ذِکْر نہ چھیڑتے ۔ (2)
اِلٰہی! واسطہ دیتا ہوں میں میٹھے مدینے کا
بچا دُنیا کی آفت سے بچا عُقْبیٰ کی آفت سے (3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - معجم کبیر ، ۱۰ / ۱۶۲ ، حدیث : ۱۰۳۲۸
2 - تذکرة الاولیاء ، ص۷۶ ، ملخصا
3 - وسائل بخشش مرمم ، ص۴۰۳