وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ( پ۴ ، اٰل عمرٰن : ۱۴۶) ترجمۂ کنزالایمان : اورصبروالے اللہکومحبوب ہیں ۔
لہٰذااگرہم بھی صبرکواپنائیں گے تواِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے رَبّ تَعالیٰ کی سچی مَحَبَّت ہمارے دل میں جاں گُزیں ہوگی ۔
حضرت سیِّدُناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : بے شک زِیادہ اَجْرسخت آزمائش پرہی ہے اوراللہعَزَّ وَجَلَّجب کسی قوم سے مَحَبَّت کرتاہے توانہیں آزمائش میں مبُتلاکردیتاہے توجواس کی قَضا( فیصلے ) پر راضی ہو اس کے لئے اس کی رِضاہے اور جوناراض ہو اس کے لئے ناراضی ہے ۔ (1)
ہے صبر تو خزانَۂ فِردوس بھائیو! عاشق کے لب پہ شکوہ کبھی بھی نہ آسکے (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دنیا کی مَحَبَّت نہ ہونا مَحَبَّتِ الٰہی کا ذریعہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَحبتِ الٰہی کے حُصُول کاایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ دُنیا کی مَحَبَّت کواپنے دل سے نکال دیاجائے مگرافسوس دُنیاکی مَحَبَّت میں گرفتاراوراس کی رنگینیوں کاشکارہوکرہمارے دلوں سے مَحَبَّتِ الٰہی کی چاشنی کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ اگرہماللہعَزَّ وَجَلَّ کی مَحَبَّت میں سچے ہوتے تو ہماری نمازیں قضا نہ ہوتیں ، رمضان کے روزے نہ چھوڑتے اور زکوٰۃ کی اَدائیگی میں سُستی نہ کرتے ۔ معلوم ہوا کہ یہ دُنیا کی مَحَبَّت کی نحوست ہی ہے کہ جس کی بِناپرہم مَحبَّتِ اِلٰہی میں کامل نہ ہوسکے لہٰذادُنیاکی مَحَبَّت سے جلداَزْجلدپیچھا چُھڑائیے کہ
________________________________
1 - ابن ماجہ ، کتاب الفتن ، باب الصبر علی البلاء ، ۴ / ۳۷۴ ، حدیث : ۴۰۳۱
2 - وسائِلِ بخشش مرمم ، ص۴۱۲