Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
414 - 541
تُو اَنگریزی فیشن سے ہردَم بچا کر		مجھے سنّتوں پر چلا یاالٰہی!
تجھے واسِطہ سیِّدہ آمِنہ کا		بنا عاشِقِ مُصطَفٰے یاالٰہی!(1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نوافل کی کثرت مَحَبَّتِ الٰہی کا ذریعہ :
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَحَبَّتِ الٰہی پانے کاایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہم نمازکی پابندی کریں ، ماہِ رمضان کے پورے روزے رکھیں ، زکوٰۃ فرض ہوتووَقْت پراَدا کریں نیز فرائض وواجبات کی اَدائیگی کے ساتھ ساتھ نَوافل کااہتمام کرنابھی بہترین عمل ہے ۔ نوافل پڑھنے والابھیاللہعَزَّ  وَجَلَّ کا محبوب اورپسندیدہ بندہ بن جاتاہے ۔  جیسا کہ 
	حضرت سیِّدُناابُوہُریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایاکہ اللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے :  ’’ جس نے کسی ولی کواَذِیَّت دی ، میں اس سے اعلانِ جنگ کرتاہوں اوربندہ میراقُرب سب سے زِیادہ فرائض کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور نَوافل کے ذریعے مُسلسل قرب حاصل کرتارہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے مَحَبَّت کرنے لگتا ہوں ۔  جب میں بندے کو محبوب بنا لیتا ہوں تومیں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ  سنتاہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے پھروہ مجھ سے سوال کرے تومیں اسے ضرورعطاکرتاہوں اورمیری پناہ چاہے تومیں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں ۔   ‘‘ (2) 



________________________________
1 -   وسائِلِ بخشش مرمم ، ص۱۰۰ ، ۱۰۱
2 -    بخاری ، کتاب الرقاق ، باب التواضع ، ۴ / ۲۴۸ ، حدیث : ۶۵۰۲