وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) ( پ۳ ، اٰلِ عمرٰن : ۳۱)
ہوجاؤاللہتمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گااوراللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
اس آیتِ مُبارکہ سے مَعلوم ہوا کہ اللہعَزَّ وَجَلَّکی مَحَبَّت کا دعویٰ اُسی وَقْت سچّا ہوسکتا ہے جب ہم سیّدِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت وپیروی کرتے ہوں گے ۔
مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حَکیْمُ الاُمَّت مُفتی احمدیارخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس آیتِ طَیِّبَہ کا خُلاصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اے نبى!آپ ان لوگوں سے فرمادیجئے جوآپ کے وسىلہ کے بغىر ہمارى مَحَبَّت کا دَم بھرتے ہىں ىا جو اپنے کو رَبّ کا پىارا جان کرآپ سے بے نىاز ہونا چاہتے ہىں ىا جوآپ کى اطاعت کے سِوا دوسرے اَسباب سے خُدا تک پہنچنا چاہتے ہىں ، ان سب کو اعلانِ عام کردیجئے کہ اگر تم خدا سے مَحَبَّت کرنا چاہتے ہوتو نہ مجھ سے مُقابلہ کرو ، نہ مىرى برابرى کا دَم بھرو ، نہ مجھ سے آگے آگے چلو بلکہ غلام بن کر مىرے پىچھے پىچھے چلے آؤ ، اپنے اَقْوال ، اَفْعال ، اَعْمال ، غرض زِندگى کے ہرشُعْبہ کو مىرى مثال بنادو اور مجھ مىں فنا ہوجاؤ پھر مُعاملہ برعکس ہوگا کہ رَبّ تمہىں اپنا محبوب بنالے گااورتم جو چاہو گے وہ کرے گا ، اس کے ساتھ ہى تمہارے سارے گُناہ مُعاف فرما دے گا کىونکہ اللہ( عَزَّ وَجَلَّ) بڑا غَفّار اوراَرْحَمُ الرَّاحمینہے ، تم اپنے کواس کى مغفرت اوررحمت کااہل بناؤ ، پھرلطف دىکھو ۔ (1)
لہٰذاہمیں بھی اپنے شب وروزاللہعَزَّ وَجَلَّاوراس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَحکام کی بجاآوری میں گزارنے چاہئیں کیونکہ مَحَبَّت کاتقاضابھی یہی ہے کہ جس سے مَحَبَّت کی جائے اس کی اطاعت وفرمانبرداری بھی کی جائے ۔
مُطِیع اپنا مجھ کو بنا یاالٰہی سدا سُنّتوں پر چلا یاالٰہی!
________________________________
1 - ماخوذ ازتفسیرنعیمی ، ۳ / ۳۵۹