سے مَحَبَّت کرتاہے وہ رات کومیرے حُضُورتہجداداکرتاہے جبکہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں ، وہ تنہائی میں مجھے یاد کرتاہے جبکہ غافل لوگ میرے ذِکْر سے غَفْلت میں پڑے ہوتے ہیں اوروہ میری نعمت پر شکراَداکرتاہے جبکہ بُھولنے والے مجھ سے غَفْلت اختیار کرتے ہیں ۔ “(1)
مِرے دِل سے دنیا کی چاہت مِٹا کر کر اُلفت میں اپنی فنا یا اِلٰہی!
عبادت میں گزرے مری زندگانی کرم ہو کرم یا خدا یا الٰہی!
تُو اپنی وِلایت کی خیرات دیدے مِرے غوث کا واسطہ یا اِلٰہی!(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
محبَّتِ الٰہی کامضبوط ترین ذریعہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہعَزَّ وَجَلَّکی حقیقی مَحَبَّت اُسی وَقْت حاصل ہوسکتی ہے جب ہمیں اس کے حُصُول کے طریقے معلوم ہوں گے ۔ اللہعَزَّ وَجَلَّکی مَحَبَّت پانے کاسب سے اَہَم طریقہ یہ ہے کہ اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سچی مَحَبَّت اورہرمُعاملے میں آپ کی اِطاعت کی جائے ۔ کیونکہاللہعَزَّ وَجَلَّنے اپنی مَحَبَّت کے حُصُول کے لیے حضورنَبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت وفرمانبرداری کو شرط قراردیا ہے ۔ چُنانچہ
پارہ3 ، سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرٰن ، آیت نمبر31میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-
ترجمۂ کنزالایمان : اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگرتماللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار
________________________________
1 - حليةالاولیاء ، عبدالعزیزبن ابی رواد ، ۸ / ۲۱۱ ، رقم ۱۱۹۰۶ ۔ بحر الدموع ، فصل التوبة وثمارها ، ص۲۱
2 - وسائِلِ بخشش مرمم ، ص۱۰۵