محبوب رکھنا ، اللہتعالیٰ کے کلام کی تلاوت ، اللہتعالیٰ کے مُقرَّب بندوں کواپنے دلوں کے قریب رکھنا ، اِن سے مَحَبَّت رکھنا ، مَحَبَّتِ الٰہی میں اضافے کے لئے ان کی صحبت اختیارکرنا ، اللہ تعالیٰ کی تعظیم سمجھتے ہوئے ان کی تعظیم کرنا ، یہ تمام اُمُوراوران کے علاوہ سینکڑوں کام ایسے ہیں جومَحَبَّتِ الٰہی کی دلیل بھی ہیں اوراُس کے تقاضے بھی ہیں ۔ (1)
شیْخِ طریقت ، امیْرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہبارگاہِ خُداوندی میں عرض کرتے ہیں :
مُشکلوں میں دے صبر کی توفیق اپنے غم میں فقط گُھلا یا رَبّ(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آئیے !ایک حدیثِ پاک سنتے ہیں جسے سن کرگناہ گاروں کی ڈھارس بندھے گی اورنیکوکار ڈرجائیں گے اورپتاچلے گاکہاللہعَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے والوں کی رات کیسے گزرتی ہے ۔ چنانچہ
فرمانِ مصطفٰے ہے کہاللہعَزَّ وَجَلَّنے حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی طر ف وحی فرمائی : اے داؤد!گناہ گاروں کو خُوشخبری دے دواورصِدّیقین کو ڈرسُناؤ ۔ ‘‘ توحضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام کواس پربڑاتعجب ہوا ۔ اُنہوں نے عرض کی : ’’ یارَبّعَزَّ وَجَلَّ!میں گناہ گاروں کوکیا خُوشخبری دُوں اورصِدّیقین کوکیا ڈرسُناؤں؟ ‘‘ اللہعَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’ اے داؤد! گناہ گاروں کو یہ خُوشخبری سُنادوکہ کوئی گُناہ میری بخشش سے بڑانہیں اورصِدّیقین کواس بات کا ڈرسُناؤ کہ وہ اپنے نیک اعمال پر خُوش نہ ہو ں کہ میں نے جس سے بھی اپنی نعمتوں کا حساب لیاوہ تباہ وبربادہوجائے گا ۔ اے داؤد! اگرتُومجھ سے مَحَبَّت کرناچاہتاہے تودُنیاکی مَحَبَّت کواپنے دل سے نکال دے کیونکہ میری اوردُنیاکی مَحَبَّت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں ۔ اے داؤد!جومجھ
________________________________
1 - تفسیرصراط الجنان ، پ۲ ، البقرة ، تحت الایہ : ۱۶۵ ، ۱ / ۲۶۴
2 - وسائِلِ بخشش مرمم ، ص۸۰