بھائی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں ۔
(5)…اِس تفسیرمیں اعمال کی اِصلا ح کے لیے مُعاشرتی بُرائیوں کاتذکرہ ، اِن کے عذابات ، جنّت کے اِنعامات ، جہنم کے عذابات ، باطنی اَمراض اوراُن کے علاج کابیان ہے ۔ نیز والدین ، رِشتے داروں ، یتیموں ، پڑوسیوں وغیرہ کے ساتھ حُسنِ سُلُوک اورصِلہ رحمی کو بھی بیان کیا گیاہے ۔
(6)…تفسیر صِراطُ الجنان میں عقائدِ اہلسنّت اورمعمولاتِ اہلسنّت کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے نیزموقع کی مناسبت سے حضورِپُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناوراولیائے عِظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی سِیرت اورواقعات بھی ذِکر کیے گئے ہیں ۔
محبتِ اِلٰہی سے معمورجو آیت ہم نے سُنی ، اس کے متعلق تفسیر صِراطُ الجنان میں ہے :
اللہتعالیٰ کے مقبول بندے تمام مخلوقات سے بڑھ کراللہتعالیٰ سے مَحَبَّت کرتے ہیں ۔ محبَّتِ الٰہی میں جینااورمَحبتِ الٰہی میں مرناان کی زِندگی كا مَقْصد ہوتاہے ۔ اپنی ہر خوشی پر اپنے رَبّعَزَّ وَجَلَّکی رِضاکوترجیح دینا ، نرم وگُدازبستروں کوچھوڑکربارگاہِ نیازمیں سربَسجود ہونا ، یادِالٰہی میں رونا ، رِضائے الٰہی کے حُصُول کے لئے تڑپنا ، سردیوں کی طویل راتوں میں قیام اورگرمیوں کے لمبے دنوں میں روزے ، اللہتعالیٰ کے لئے مَحَبَّت کرنا ، اسی کی خاطردُشمنی رکھنا ، اسی کی خاطر کسی کو کچھ دینا اور اسی کی خاطر کسی سے روک لینا ، نعمت پر شکر ، مُصیبت میں صبر ، ہرحال میں خُداپرتَوکُّل ، اپنے ہرمُعاملے کواللہتعالیٰ کے سِپُردکردینا ، اَحکامِ الٰہی پر عمل کے لئے ہمہ( ہر) وَقْت تیاررہنا ، دل کوغیرکی مَحَبَّت سے پاک رکھنا ، اللہتعالیٰ کے محبوبوں سے مَحَبَّت اوراللہتعالیٰ کے دُشمنوں سے نفرت کرنا ، اللہ تعالیٰ کے پیاروں کانیازمندرہنا ، اللہتعالیٰ کے سب سے پیارے رسول ومحبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکودل وجان سے