Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
408 - 541
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ہاں گزاری ، رات کاکچھ حصہ گزراتھاکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا : جنید!کیا تم سورہے ہو؟میں نے عرض کی : نہیں ۔ آپ فرمانے لگے : میں نے دیکھا کہ گویامیںاللہعَزَّ  وَجَلَّکے حُضُورکھڑاہوں اورمجھے ارشادفرمایاگیا : اے سَری!میں نے مخلوق پیدا کی تو سب میری مَحَبَّت  کا دعویٰ کرنے لگے ۔  پھر میں نے دُنیا پیدا کی تو نوّے فیصدبھاگ گئے اوردس فیصدباقی رہ گئے ۔  پھر میں نے جنّت پیدا کی تو بقیہ میں سے بھی نوّے فیصدچلے گئے اورصرف دس فیصدبچ گئے ۔ پھرجب میں نے ان پر ذرّہ بھرآزمائش  ڈالی توباقی رہ جانے والی تعدادکابھی صرف دس فیصدبچااورباقی نوّے فیصدبھاگ گئے ۔ میں نے باقی رہنے والوں سے پُوچھا : ”تم نے دُنیاکو چاہا نہ جنَّت طلب کی اور نہ ہی آزمائش سے بھاگے ، آخر! تم کیا چاہتے ہو؟اورتمہارامقصودکیاہے ؟“اُنہوں نے عرض کی : ہمارامقصود تُوہی تُوہے ، اگرتُوہم پرمَصائب نازل فرمائے گا تب بھی ہم تیری مَحَبَّت کو نہ چھوڑیں گے ۔  میں نے ان سے کہا : ”میں تمہیں ایسی ایسی مُصیبتوں اورآزمائشوں میں مبُتلا کروں گاجن کوپہاڑبھی برداشت نہیں کرسکتے تو کیاتم ان پرصبرکرو گے ؟“اُنہوں نے عرض کی : کیوں نہیں ، مولیٰ!اگر تُوآزمائش میں مبتلا کرنے والاہے توجیسے چاہے ہمیں آزمالے ۔ پھراُس نے ارشادفرمایا : ”اے سَری!یہی میرے حقیقی بندے اورسچے محبوب ہیں ۔ “(1) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حکایت سے معلوم ہواکہاللہعَزَّ  وَجَلَّکے نیک بندے ہر حال میں صَبْر وشکرکا مُظاہَرہ کرتے ہوئے اس کی رِضاپرراضی رہتے ہیں اور کبھی زباں پرحرفِ شِکایَت نہیں لاتے یہی لوگاللہعَزَّ  وَجَلَّکے سچے محبوب ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھیاللہعَزَّ  وَجَلَّکی مَحَبَّت پانے کے لیے اس کی جانب سے آنے والی آزمائشوں پرصَبْر



________________________________
1 -   شعب الایمان ، باب فی محبة الله عزوجل ، معانی المحبة ، ۱ / ۳۷۴ ، الرقم : ۴۳۶