Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
405 - 541
 رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں کہ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصاف صاف اورجدا جداکلام فرماتے تھے کہ ہرسننے والااسے یادکرلیتاتھا ۔ (1)  ٭ …  مسکراکراورخندہ پیشانی سے بات چیت کیجئے ۔ چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ اوربڑو ں کے ساتھ مُؤَدَّبا نہ لہجہ رکھئے اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّدو نوں کے نزدیک آپ معزّزرہیں گے ۔  ٭ …  چِلاّچِلاّکربات کرناجیساکہ آج کل بے تکلُّفی میں دوست آپس میں کرتے ہیں ، معیوب ہے ۔  ٭ …  دورانِ گفتگو ایک دوسرے کے ہاتھ پرتالی دینا ٹھیک نہیں کیونکہ تالی ، سیٹی بجانامحض کھیل کود ، تماشہ اورطریقَۂ  کفار ہے ۔ (2)  ٭ …  بات چیت کرتے وقت دوسرے کے سامنے باربار ناک یا کان میں انگلی ڈالنا ، تھوکتے رہنااچھی بات نہیں ۔ اس سے دوسرو ں کوگھن آتی ہے ۔  ٭ …  جب تک دوسرا بات کر رہاہواطمینان سے سنیں ۔  اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع نہ کردیں ۔   ٭ …  کوئی ہکلاکربات کرتاہوتواس کی نقل نہ اُتاریں کہ اس سے اس کی دل آزاری ہوسکتی ہے ۔   ٭ …  بات چیت کرتے ہوئے قہقہہ نہ لگائیں کہ سر کارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا( قہقہہ یعنی اتنی آوازسے ہنسناکہ دوسروں تک آوازپہنچے  ۔ ) (3)  ٭ …  زیادہ باتیں کرنے اورباربارقہقہہ لگانے سے وقاربھی مجرو ح ہوتا ہے ۔  ٭ …   سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے :  ’’ جب تم دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے اورکم گوشخص دیکھوتواس کے پاس ضروربیٹھوکہ اسے حکمت دی گئی ہے ۔   ‘‘ (4) 



________________________________
1 -    مسند احمد ، مسند عائشہ ، ۱۰ / ۱۱۵ ، حدیث : ۲۶۲۶۹
2 -   تفسیر نعیمی ، ۹ / ۵۴۹
3 -   ماخوذ از مراٰۃالمناجیح ۶ / ۴۰۲
4 -   ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب الزھد فی الدنیا ، ۴ / ۴۲۲ ، حدیث : ۴۱۰۱