رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں کہ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصاف صاف اورجدا جداکلام فرماتے تھے کہ ہرسننے والااسے یادکرلیتاتھا ۔ (1) ٭ … مسکراکراورخندہ پیشانی سے بات چیت کیجئے ۔ چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ اوربڑو ں کے ساتھ مُؤَدَّبا نہ لہجہ رکھئے اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّدو نوں کے نزدیک آپ معزّزرہیں گے ۔ ٭ … چِلاّچِلاّکربات کرناجیساکہ آج کل بے تکلُّفی میں دوست آپس میں کرتے ہیں ، معیوب ہے ۔ ٭ … دورانِ گفتگو ایک دوسرے کے ہاتھ پرتالی دینا ٹھیک نہیں کیونکہ تالی ، سیٹی بجانامحض کھیل کود ، تماشہ اورطریقَۂ کفار ہے ۔ (2) ٭ … بات چیت کرتے وقت دوسرے کے سامنے باربار ناک یا کان میں انگلی ڈالنا ، تھوکتے رہنااچھی بات نہیں ۔ اس سے دوسرو ں کوگھن آتی ہے ۔ ٭ … جب تک دوسرا بات کر رہاہواطمینان سے سنیں ۔ اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع نہ کردیں ۔ ٭ … کوئی ہکلاکربات کرتاہوتواس کی نقل نہ اُتاریں کہ اس سے اس کی دل آزاری ہوسکتی ہے ۔ ٭ … بات چیت کرتے ہوئے قہقہہ نہ لگائیں کہ سر کارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا( قہقہہ یعنی اتنی آوازسے ہنسناکہ دوسروں تک آوازپہنچے ۔ ) (3) ٭ … زیادہ باتیں کرنے اورباربارقہقہہ لگانے سے وقاربھی مجرو ح ہوتا ہے ۔ ٭ … سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے : ’’ جب تم دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے اورکم گوشخص دیکھوتواس کے پاس ضروربیٹھوکہ اسے حکمت دی گئی ہے ۔ ‘‘ (4)
________________________________
1 - مسند احمد ، مسند عائشہ ، ۱۰ / ۱۱۵ ، حدیث : ۲۶۲۶۹
2 - تفسیر نعیمی ، ۹ / ۵۴۹
3 - ماخوذ از مراٰۃالمناجیح ۶ / ۴۰۲
4 - ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب الزھد فی الدنیا ، ۴ / ۴۲۲ ، حدیث : ۴۱۰۱