شریف سجانے کی پکی سچی نِیَّت کر لی اور مدنی قافلے سے سبز سبز عمامہ شریف سَجا کر ہی گھر پہنچا ۔ اب اپنی بقیہ زندگیاللہعَزَّ وَجَلَّاوراس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت وفرمانبرداری میں گُزارنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیااورامیْرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مُریدہوکرقادری عطاری بن گیااورعلاقے کے دیگراسلامی بھائیوں کے ساتھ مل کردعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں حَسبِ اِسْتطاعت کوششیں کرنے لگا ۔ اللہعَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے میرے سات بھائی اَمِیْرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مُریدہوکرقادری عطاری سلسلے میں داخل ہوگئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بَیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سُنّت کی فضیلت اورچندسنّتیں اورآداب بَیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتاہوں ۔ مصطَفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ جَنَّت نشان ہے : ’’ جس نے میری سُنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جَنَّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بات چیت کرنے کی سنتیں اور آداب :
٭ … سر کارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگفتگواس طر ح دلنشین اندازمیں ٹھہرٹھہر کرفرماتے کہ سننے والاآسانی سے یادکرلیتا ۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب العلم ، باب ماجاءفی الاخذبالسنة الخ ، ۴ / ۳۰۹ ، حدیث : ۲۶۸۷