Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
397 - 541
 آگ کے قریب ہے اورجاہل سخیاللہعَزَّ  وَجَلَّکے نزدیک بخیل عالِم سے بہتر ہے ۔ (1) 
 (5)...ارشادفرمایا : اے انسان!اگرتم بچاہوامال خرچ کردوتوتمہارے لئے اچھاہے اور اگراُسے روک رکھوتوتمہارے لئے بُراہے اوربَقَدْرِضرورت اپنے پاس رکھ لوتوتم پرمَلامت نہیں اوردینے میں اپنے عیال( گھروالوں) سے اِبْتداکرواوراُوپروالاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ (2) 
شرح حدیث : 
	مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت مفتی احمدیارخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس آخری حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : اپنی ضَروریات سے بچاہوامال خَیْرات کردیناخُودتیرے لئے ہی مُفید ہے کہ اس سے تیراکوئی کام نہ رُکے گا اور تجھے دُنیا وآخرت میں عِوَض( یعنی بدلہ) مل جائے گااوراسے روکے رکھنا ، خُودتیرے لئے ہی بُراہے کیونکہ وہ چیزسَڑگل یااورطرح سے ضائع ہوجائے گی اور تُوثواب سے محروم ہوجائے گا ، اسی لئے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤتوپُرانا بیکارکپڑاخیرات کردو ، نَیاجُوتارَبّ تَعالیٰ دے توپُراناجوتاجوتمہاری ضرورت سے بچاہے کسی فقیرکودے دوکہ تمہارے گھرکاکُوڑانکل جائے گااوراُس کابھلاہوجائے گا ۔ اس میں دو حکم بیان ہوگئے ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لوآج نفلی صَدَقہ دے کرکل خُودبھیک نہ مانگو ، دُوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دوپھر اَجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صَدَقہ بھی ہے اور صِلہ رِحمی بھی ۔ (3) 



________________________________
1 -    ترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی السخاء ، ۳ /  ۳۸۷ ، حدیث : ۱۹۶۸
2 -   مسلم ، کتاب الزکاة ، باب بیان ان الید العلیا خیر   الخ ، ص۴۰۰ ، حدیث : ۲۳۸۸
3 -   مراٰۃ المناجیح ، ۳ / ۷۰