آہ! پلّے زَر نہیں رَخْتِ سفر سرور نہیں تم بُلا لو تم بُلانے پر ہو قادِر یانبی!(1)
چنانچہ چوتھی رات پھرسرورِ کائنات ، شاہِ مَوْجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے غریب خانے میں جلوہ گَری فرمائی اوراِرْشادفرمایا : ”تم اِس سال حج کے لئے چلے جانا ۔ “میں نے دَسْتْ بستہ عَرْض کی : میرے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے پاس اَخْراجات نہیں ہیں ۔ اِرشادفرمایا : ”تم اپنے مکان میں فُلاں جگہ کھودو! وہاں تمہارے دادا کی زِرَہ مَوْجودہوگی ۔ “ اِتنا فرماکرآپ تشریف لے گئے ۔ صُبْح جب میری آنکھ کُھلی تو میں بَہُت خُوش تھا ۔ نَمازِ فَجرکے بعدآپ کی بتائی ہوئی جگہ کھودی توواقعی وہاں ایک قیمتی زِرَہ مَوْجُودتھی ، وہ بِالکل صاف سُتھری تھی ، گویا اُسے کسی نے اِسْتِعْمال ہی نہ کیاہو!میں نے اُسے چارہزاردِینارمیں بیچااوراللہعَزَّ وَجَلَّکاشکراَداکِیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ!حضورنَبِیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نَظرِعنایت سے اَسْبابِ حج کاخُودہی اِنتِظام ہوگیا ۔ (2)
جب بُلایا آقا نے خُود ہی اِنتِظام ہو گئے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے دِیْنِ اسلام نے ہمیں مُسلمانوں کی خَیْرخَواہی ، حُسنِ سُلُوک ، غریبوں کی مدداوریتیموں کی کفالت کا درس دیاہے ، اسی وجہ سے ہرسال صاحِبِ نصاب اَفْرادپرچندشرائط پائے جانے کی صُورت میں زکوٰۃ کوفرض فرمایا ، نَفْلی صَدقات کے فَضائل بیان فرماکرلوگوں کو سخاوت کادرس دیا اور بخل کی مَذمَّت بیان فرمائی ہے ، لہٰذاہمیں بھی چاہیے کہ زکوٰۃ جیسے اَہَم فریضے کی اَدائیگی میں سُستی وتنگ دِلی
________________________________
1 - وسائل بخشش مرمم ، ص۳۷۶
2 - عیون الحکایات ، الحکاية الرابعة والسبعون بعد الثلاثمائة ، ص۳۲۶