Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
394 - 541
سے جاکرروٹی اور فالودہ خرید کر کھایا ۔ (1) 
مانگیں گے مانگے جائیں گے مُنہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ  ’’ لا  ‘‘ ہے نہ حاجت ’’ اگر  ‘‘  کی ہے (2)
 ٭ …   اَبُوالْفَرَج علامہ عبدُالرحمن بن علی بن جَوزیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ”عُیُونُ الْحِکایات“میں تحریرکرتے ہیں کہ ایک پرہیزگارشَخْص کابیان ہے :  ’’ میں مُسلسل تین سال سے حج کی دُعاکررہاتھا ، لیکن میری حَسْرت پُوری نہ ہوئی ، چوتھے سال حج کا موسِمِ بہارتھااوردل آرزُوئے حرم میں بے قَرارتھا ۔ ایک رات جب میں سویاتومیری سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کرجاگ اُٹھی ، اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ  وَجَلَّ!میں نے خواب میں جنابِ رِسالتِ مآبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت سے شَرَفْیاب ہوا ۔ آپ نے اِرشادفرمایا : ”تم اِس سال حج کے لئے چلے جانا ۔ “میری آنکھ کھلی تودِل  خُوشی سے جُھوم رہا تھا ، سرکارِ مدینہ ، راحَتِ قَلْب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ میٹھی میٹھی آواز کانوں میں رَس گھول رہی تھی : ”تم اِس سال حج کے لئے چلے جانا ۔ “بارگاہِ نَبوّت سے حج کی اِجازت مل چکی تھی ، میں بَہُت شاداں وفَرحاں تھا ۔ اچانک یادآیا کہ میرے پاس زادِراہ( یعنی سفر کا خرچ) تو ہے نہیں!اس خیال کے آتے ہی میں غمگین ہوگیا ۔ دوسری شب خواب میں پھر زِیارت ہوئی ، لیکن میں اپنی غُربَت کاذِکْرنہ کرسکا ۔ اِسی طرح تیسری رات بھی خواب میں بارگاہِ رسالت سے حکم ہواکہ”تم اِس سال حج کے لئے چلے جانا ۔ “میں نے سوچااگرچوتھی بارزیارت سے مُشَرَّف ہواتو اپنی مالی حالت کے مُتَعلِّق عَرْض کردوں گا ۔ 



________________________________
1 -    جذب القلوب ، ص۲۰۷ ۔ وفاء الوفاء ، ۲  / ۱۳۸۱
2 -   حدائق بخشش ، ص۲۲۵