ومُشْکِل کُشائی کے چند واقِعات ملاحظہ فرمائیے ۔
وصالِ ظاہری کے بعدحاجت روائی
ومشکل کُشائی کے واقعات
٭ … حضرت سیِّدُناشیخ احمدبن نفیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں ایک بارمدینَۂ منوَّرہ میں سخْت بُھوک کے عالَم میں روضَۂ اَنورپرحاضِرہوکرعرض گُزارہوا : یارَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں بُھوکاہوں ۔ یکایک آنکھ لگ گئی ، ابھی تھوڑی دیرہی گزری تھی کہ کسی نے جَگایااورساتھ چلنے کوکہا ، میں چل دیا ، وہ مجھے اپنے گھرلے گیااورکجھوریں ، گھی اورگنْدُم کی روٹی پیش کرتے ہوئے کہا : پیٹ بھرکرکھالیجئے !کیونکہ میرے جَدِّامجد ، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے آپ کی میزبانی کاحکم دیاہے ۔ آئندہ بھی جب کبھی بُھوک محسوس ہوبلاجھجک تشریف لے آئیے گا ۔ (1)
٭ … حضرت سیِّدُنااحمدبِن محمدصُوفیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں تین ماہ تک جنگلوں میں پھرتارہا ، پریشان حال مدینَۂ مُنوَّرہ حاضِر ہُوابارگاہِ رسالت وشیخین میں سلام عرض کر کے سوگیا ۔ خواب میں جنابِ رسالت مآبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت سے مُشَرَّف ہوا ، آپ فرمارہے تھے : احمد! تُوآگیا دیکھ تیرا کیا حال ہوگیاہے !میں نے عَرْض کی : اَنَاجَائِعٌ وَّاَنَاضَیْفُکَ یارَسُوْلَاللہ!یعنییارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں بُھوکا ہوں اورآپ کامہمان ہوں ۔ آپ نے ارشادفرمایا : ہاتھ کھول ۔ میں نے ہاتھ کھولاتوآپ نے چند درہم عنایت فرمائے ، جب آنکھ کھُلی تو وہ دِرہم میرے ہاتھ میں موجود تھے ، میں نے بازار
________________________________
1 - حجة اللّٰہ علی العٰلَمین ، ص۵۷۳