Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
392 - 541
	سیِّدِی اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنَّت ، مولانا ، شاہ ، امام احمدرضاخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورتمام انبیائے کِرام حیاتِ حقیقی ، دُنیاوی ، رُوحانی اورجسمانی سے زِنْدہ ہیں ، اپنے مزاراتِ طیّبہ میں نمازیں پڑھتے ہیں ، روزی دئیے جاتے ہیں ، جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں ، زمین وآسمان کی سَلْطَنت میں تَصَرُّف فرماتے ہیں ۔ رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں : اَلْاَنْبِیَاءُ اَحْیَاءٌ فِیْ قُبُوْرِھِمْ یُصَلُّوْنیعنی حضرات انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَاماپنے مزارات میں زِندہ ہیں اورنمازاَدافرماتے ہیں(1)  ۔ ( ایک حدیث پاک میں ہے ) رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ  اَجْسَادَالْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُّرْزَقُیعنی بے شکاللہتعالیٰ نے حضرات انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام کے اجسامِ مُبارَکہ کازمین پرکھاناحرام فرمادیاہے اللہکے نبی زندہ ہیں اوررزق دیئے جاتے ہیں ۔ (2) امام جلالُ الدِّین سیوطی شافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : حضرات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کے لئے مَزارات سے باہرجانے اورآسمانوں اورزمین میں تَصرُّف کی اِجازت ہوتی ہے ۔ (3) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ اَحادیْثِ طیّبہ اورعُلَمائے کرام کی تَصْرِیْحات سے معلوم ہواکہ مصطفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماوردیگرتمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَاماپنے اپنے مزارات میں نہ صرف حیات ہیں بلکہ انہیں رِزْق بھی دیاجاتاہے ، جہاں بھرمیں تشریف لے جاتے اورزمین وآسمان کی سَلْطَنت میں تَصَرُّف بھی فرماتے ہیں ۔  جانِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وِصالِ ظاہری فرمانے کے بعداُمَّتیوں کی حاجت رَوائی



________________________________
1 -    مسند بزار ، مسند ابی حمزة انس بن مالک ، ۱۳ / ۲۹۹ ، حدیث : ۶۸۸۸
2 -    ابن ماجہ ، کتاب الجنائز ، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۲ / ۲۹۱ ، حدیث : ۱۶۳۷
3 -   الحاوی للفتاوٰی ،   المنجلی فی تطور الولی ، ۱ / ۲۵۶ ۔  فتاویٰ رضویہ ، ۱۴ /  ۶٨۵