فرماتے ہیں کہ فَقْر( مُحتاجی) کاخوف نہیں رہتا ۔ ‘‘ (1)
٭ … حضرت سیِّدُناسعیدبن مُسَیِّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صفوان بن اُمَیَّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں : غزوۂ حنین کے دنرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے مال عطافرمانے لگے حالانکہ آپ میری نظر میں مَبْغُوض تھے ، پس آپ مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ میری نظر میں محبوب ترین ہوگئے ۔ (2)
٭ … علمائے کرام فرماتے ہیں : حُضُورِاَقْدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُس ایک دن کی عطا ، سخی بادشاہوں کی عُمربھرکی سخاوت وبخشش سے زائدتھی ، بکریوں سے بھرے جنگل کے جنگل لوگوں کوعطافرمارہے ہیں ، مانگنے والوں کاہجوم اس قدرتھاکہ آپ پیچھے ہٹتے جاتے ۔ جب سب اَموال تقسیم ہوگئے توایک اَعْرابی( یعنی عرب کے دیہات میں رہنے والے ) نے رِدائے مُبارَک( یعنی چادرمبارک) بدنِ اَقْدس پرسے کھینچ لی ، جس سے مُبارَک کاندھے اورکمرشریف پرنشان پڑگیا ۔ پھربھی غصہ نہ کیابلکہ ارشادفرمایا : ’’ اے لوگو!جلدی نہ کرو ، اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!تم مجھے کسی وَقْت بخیل نہ پاؤگے ۔ ‘‘ (3)
٭ … حضرت سیِّدُناسَہْل بن سَعْدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کر تے ہیں کہ ایک عورت نے بارگاہِ رسالت میں ایک خوبصورت چادرہدیہ کی اورعرض کی : یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میں نے اپنے ہاتھ سے بُنی ہے اورآپ کے استعمال کے لئے لائی ہوں ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوچونکہ ضرورت تھی ، لہٰذاآپ نے وہ چادرلے لی ۔ وہ چادر
________________________________
1 - مسلم ، کتاب الفضائل ، باب ماسئل رسول اللّٰہ الخ ، ص۹۷۳ ، حدیث : ۶۰۲۱ ، ۶۰۲۲
2 - ترمذی ، کتاب الزکاة ، باب ماجاء فی اعطاء الخ ، ۲ / ۱۴۷ ، حدیث : ۶۶۶
3 - بخاری ، کتاب الجھاد والسیر ، باب الشجاعة فی الحرب والجبن ، ۲ / ۲۶۰ ، حدیث : ۲۸۲۱