حرام کی نحوست :
اللہعَزَّ وَجَلَّکے محبوب ، دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : جو شَخص حرام مال کماتااورپھر صَدَقہ کرتاہے تو اُس سے قَبول نہیں کیاجائے گااوراُس سے خَرچ کرے گا تو اِس کے لیے اُس میں بَرَکت نہ ہوگی اوراپنے پیچھے چھوڑ ے گا تو یہ اس کے لیے دوزخ کازادِراہ( سامان) ہوگا ۔ (1)
لہٰذاہمیں چاہیے کہ جائز طریقے سے مال کمائیں اوراپنی ضرورت کے علاوہ جوبچتانظر آئے اُسے فضولیات میں برباد کرنے کے بجائے اپنے مُحتاج وغریب مُسلمان بھائیوں کی مالی مددکریں ، مَساجد ، مَدارس اور نیکی کے کاموں میں ترقّی کے لئے اپنامال زیادہ سے زیادہ خرچ کریں گے تواِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّاس کی ڈھیروں برکتیں نصیب ہوں گی ۔ چنانچہ پارہ3 ، سُوْرَۃُ الْبَقَرَہ ، آیت نمبر274میں ارشادہوتاہے :
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ( پ۳ ، البقرة : ۲۷۴)
ترجمۂ کنزالایمان : وہ جواپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اورظاہران کے لئے ان کا نیگ( اجر) ہے ان کے رَبّ کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ۔
اسی طرح پارہ3 ، سُوْرَۃُ الْبَقَرَہ ، آیت نمبر261میں ارشادہوتاہے :
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ
ترجمۂ کنزالایمان : ان کی کہاوت جواپنے مال اللہکی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح
________________________________
1 - مسند احمد ، مسند عبداللّٰہ بن مسعود ، ۲ / ۳۱ ، حدیث : ۳۶۷۲