اورمسلمانوں کے دل میں خوشی داخل کرنے کی نِیَّت سے ایک دوسرے کوتُحْفہپیش کرنے کی عادت بنائیں کہ تحفہ دینے سے مَحَبَّت بڑھتی اور عَداوت ختم ہوتی ہے ۔ چنانچہ
کینہ ختم اورمحبت پیداہو :
حضرت سیِّدُناعطاء خُراسانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ایک دُوسرے سے مُصافَحہ کروکہ اس سے کِینہ جاتا رہتا ہے اورہدیہ( تحفہ) دیاکروکہ آپس میں مَحَبَّت ہوگی اور دُشمنی جاتی رہے گی ۔ (1)
شرح حدیث :
مشہورمُفَسِّرِقرآن ، حکیْمُ الاُمَّت ، مُفْتی احمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپراس حدیْثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ دونوں عمل بہت ہیمُجَرَّبہیں جس سے مُصافَحہ کرتے رہو اس سے دُشمنی نہیں ہوتی اگراِتفاقًاکبھی ہوبھی جائے تواس کی برکت سے ٹھہرتی نہیں ، یوں ہی ایک دوسرے کوہدیہ دینے سے عَداوتیں ختم ہوجاتی ہیں ۔ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یادرکھئے !تحفے کالَیْن دَیْن ہویاپھرکوئی اورمُعامَلہ حلال ذَریعہ ہی اختیارکیاجائے کیونکہ حرام ذریعے سے حاصل ہونے والے مال کوکھانا ، پینا ، پہننا ، یا کسی اور کام میں استعمال کرنا حرام و گُناہ ہے ، اس کی سزا دُنیا میں مال کی قِلَّت و ذِلَّت اور بے برکتی جبکہ آخرت میں جہنَّم کی بھڑکتی آگ کادَردناک عذاب ہے ۔ چنانچہ
________________________________
1 - مشکاة المصابیح ، کتاب الادب ، باب ماجآء فی المصافحة ، ۲ / ۱۷۱ ، حدیث : ۴۶۹۳
2 - مراٰة المناجیح ، ۶ / ۳۶۸