سائل کو خالی نہ لوٹایا حتّٰی کہ سب تقسیم فرمادیئے ۔ (1)
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو مِلا اُن سے مِلا
بٹتی ہے کونین میں نِعمت رَسُوْلُ اللہ کی
ہم بھکاری وہ کریم ان کا خُدا ان سے فُزوں
اور نہ کہنا نہیں عادت رَسُوْلُ اللہ کی(2)
بعض اوقات ایسابھی ہوتاکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی سے کوئی چیز خریدتے اورقیمت اَدا کرنے کے بعدوہ چیز اُسی کویا کسی دوسرے کو عطافرمادیتے ۔ چنانچہ
مروی ہے کہ حضورپُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناجابر بنعبْدُاللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ایک اُونٹ خریدااورپھروہی اُونٹ انہیں بطورِعطیہ عنایت فرمادیا ۔ (3) اسی طرح حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اونٹ کا ایک بچہ خریداورپھروہی حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوعطافرمادیا ۔ (4)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اندازہ فرمائیے کہ ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس قَدَرسخاوت فرمانے والے تھے کہ اپنی ضرورت کے لئے خریدی گئی چیزبھی کسی کو بطورِتحفہ عطافرمادیتے ، لہٰذاہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اس پیاری سُنَّت پرعمل کرنے
________________________________
1 - مسلم ، کتاب الفضائل ، باب ماسئل رسول اللّٰہ الخ ، ص۹۷۳ ، حدیث : ۶۰۱۸
2 - حدائق بخشش ، ص۱۵۲ ، ۱۵۳
3 - بخاری ، کتاب البیوع ، باب شراء الدواب الخ ، ۲ / ۱۸ ، حدیث : ۲۰۹۷
4 - بخاری ، کتاب البیوع ، باب اذا اشتری شیئا الخ ، ۲ / ۲۳ ، حدیث : ۲۱۱۵