وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مُلاقات کے لئے حاضِر ہوتے اورجبریْلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام( رَمَضانُ المبارَک کی) ہر رات میں حاضِرہوتے اوررسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے ساتھ قرآنِ عظیم کادَورفرماتے ۔ ( رمضانُ المبارَک) میں خیرکے معاملے میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتیز چلنے والی ہواسے بھی زیادہ سخاوت فرماتے ۔ (1)
سیِّدِی اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسخاوتِ مصطفٰے کواشعارکی صورت میں حدائِقِ بخشش شریف میں یوں بیان فرماتے ہیں :
واہ کیا جُود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
دَھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کِھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
اغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرا
اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا (2)
حضرت سیِّدُناجابربنعبْدُاﷲرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضورنَبِیِّ رحمت ، شفِیْعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کسی سائل کوجواب میں ’’ لَا( یعنی نہیں) ‘‘ نہیں فرمایا ۔ (3) ایک مرتبہ آپ کے دربارِگوہربارمیں70ہزاردِرہم لائے گئے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں ایک چٹائی پررکھااورپاس کھڑے ہوکرتقسیم فرمانے لگے ۔ کسی
________________________________
1 - بخاری ، کتاب بدء الوحی ، ۱ / ۹ ، حدیث : ۶
2 - حدائق بخشش ، ص۱۵
3 - بخاری ، کتاب الادب ، باب حسن الخلق الخ ، ۴ / ۱۰۹ ، حدیث : ۶۰۳۴